(سی بی این پاکستان)پشاور کے تھانہ چمکنی کی حدود میں شادی سے انکار کے تنازع پر نوجوان پر مبینہ تیزاب پھینکنے اور فائرنگ کے کیس نے نیا رخ اختیار کرلیا، پولیس نے مقدمے میں نامزد خاتون کو گرفتار کرلیا ہے، دوران تفتیش نیا انکشاف، گرفتار ملزمہ شادی شدہ اور 2بچوں کی ماں نکلی۔پولیس کے مطابق واقعے کے دوران خاتون خود بھی تیزاب سے جھلس کر زخمی ہوئی، جس کے باعث اسے حیات آباد برن سینٹر منتقل کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق 26 سالہ صدیق اللہ ولد عبداللہ نے پولیس کو بتایا کہ اس کے ایک خاتون سے دوستانہ تعلقات تھے اور خاتون مبینہ طور پر اسے شادی کے لیے بلیک میل کرنے کے ساتھ 20 لاکھ روپے کا مطالبہ بھی کر رہی تھی۔متاثرہ نوجوان کے مطابق شادی سے انکار پر خاتون اس کے گھر آئی اور جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا، خاتون نے مبینہ طور پر اس پر تیزاب پھینک دیا، جس سے اس کے جسم کے مختلف حصے جھلس گئے۔ایف آئی آر میں نوجوان نے خاتون پر مبینہ فائرنگ کا الزام بھی عائد کیا ہے۔پولیس کے مطابق کیس میں نامزد خاتون نے تیزاب پھینکنے کے الزام سے انکار کیا ہے، خاتون کے ابتدائی بیان کے مطابق وہ اپنے شوہر سے ناراض ہوکر میکے میں رہ رہی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ صدیق اللہ نے اسے شوہر سے صلح کرانے کی بات کہہ کر گھر بلایا، تاہم جب وہ وہاں پہنچی تو شوہر موجود نہیں تھا۔
چمکنی تیزاب حملہ کیس میں انکشاف، گرفتار ملزمہ شادی شدہ اور 2بچوں کی ماں نکلی،
4
