Home پاکستانضم اضلاع کا ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھا جائے، سہیل آفریدی کا وزیراعظم کو خط

ضم اضلاع کا ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھا جائے، سہیل آفریدی کا وزیراعظم کو خط

by adnan Shahid

(سی بی این پاکستان) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وزیراعظم کو خط لکھ کر ضم اضلاع کا ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھنے اور استثنیٰ خاتمہ کے مجوزہ فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کر دی۔وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ ٹیکس استثنیٰ کے خاتمے کی تجویز عوامی تشویش کا باعث بن رہی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی بھی اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔وزیراعلیٰ نے لکھا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت ایک منصفانہ ٹیکس نظام کی حامی ہے، تاہم اصل مسئلہ ٹیکس نہیں بلکہ ضم اضلاع کے انضمام کے وقت وفاق کی جانب سے کیے گئے مالی، آئینی اور ادارہ جاتی وعدوں پر مکمل عمل درآمد نہ ہونا ہے۔ان کے مطابق ضم اضلاع کا انضمام وفاقی حکومت کی واضح یقین دہانیوں کے ساتھ عمل میں آیا تھا، مگر یہ وعدے آج تک مکمل نہیں کیے گئے۔خط میں کہا گیا کہ ضم اضلاع کیلئے این ایف سی ایوارڈ میں طے شدہ حصہ اب تک خیبرپختونخوا کو فراہم نہیں کیا گیا، جس کے باعث صوبہ انضمام کے اضافی مالی بوجھ کو تنہا برداشت کر رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبہ رہا ہے اور اس نے انسانی جانوں، معیشت اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے بے مثال نقصانات برداشت کیے ہیں۔وزیراعلیٰ کے مطابق افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت میں رکاوٹوں نے ضم اضلاع کی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ پسماندگی، ناکافی انفراسٹرکچر اور توانائی کے مسائل اب بھی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہی معاشی اور سماجی حالات کے باعث ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کو ٹیکس استثنیٰ دیا گیا تھا اور ان حالات میں ابھی تک نمایاں بہتری نہیں آئی۔وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ وفاقی وعدوں کی تکمیل سے قبل ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے سے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی، مقامی کاروبار پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا اور معاشی بحالی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ حساس سرحدی علاقوں میں ایسے فیصلوں کے امن و امان پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ضم اضلاع کا ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ وفاقی حکومت نے مجوزہ ٹیکس اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی تھی، تاہم وہ کوئی حتمی سفارشات مرتب نہیں کر سکی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور مقامی سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی بھی متفقہ قرارداد کے ذریعے ان اقدامات کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ واپس لینے کا فیصلہ فوری طور پر مؤخر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وفاق انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی تکمیل اور ٹیکس استثنیٰ کی بنیاد بننے والے معاشی و سماجی حالات میں واضح بہتری آنے تک موجودہ استثنیٰ برقرار رکھے،وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ وفاقی حکومت صوبے کے مؤقف اور انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کا احترام کرتے ہوئے مثبت فیصلہ کرے گی۔