Home پاکستانگومل یونیورسٹی سے منسلک نجی کالجز کے ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف

گومل یونیورسٹی سے منسلک نجی کالجز کے ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف

by adnan Shahid

پشاور:(سی بی این پاکستان)ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی (ہیرا)خیبر پختونخوا نے گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان سے منسلک نجی کالجز میں داخلوں، حاضری، امتحانات اور ڈگریوں کے ریکارڈ میں سنگین خامیوں اور تضادات کا انکشاف کرتے ہوئے معاملہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)کو بھجوا دیا ہے۔محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا نے چیئرمین ایچ ای سی کو مراسلہ ارسال کرتے ہوئے گومل یونیورسٹی اور اس سے منسلک تمام نجی کالجز کی جامع جانچ پڑتال کی درخواست کی ہے۔ہیرا کے مطابق 18مارچ 2026 کو کھلی کچہری کے دوران آزاد اسلامیہ کالج چارسدہ کے حوالے سے شکایت موصول ہوئی تھی کہ ایسے افراد کو بھی ڈگریاں جاری کی گئیں جنہوں نے کلاسز میں شرکت نہیں کی یا ان کے پاس مطلوبہ سابقہ تعلیمی قابلیت موجود نہیں تھی۔شکایت میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ ایسی ڈگریاں تدریسی شعبے میں ترقی کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔مراسلے کے مطابق معاملے کی تحقیقات کے دوران گومل یونیورسٹی سے اس کے نجی شعبے سے منسلک کالجز کی فہرست طلب کی گئی جبکہ ہیرا نے صوبے کے بعض کالجز کا اچانک جسمانی معائنہ بھی کیا۔معائنے اور دستیاب ریکارڈ کے جائزے میں کالجز کے انفراسٹرکچر، داخلہ ریکارڈ، رجسٹریشن، انرولمنٹ ڈیٹا، حاضری رجسٹرز، کلاس شیڈول، کورس فائلز، امتحانی ریکارڈ اور دیگر تعلیمی دستاویزات میں سنگین خامیوں اور تضادات کی نشاندہی ہوئی۔ہیرا نے یہ بھی قرار دیا کہ بعض معاملات میں نجی کالجز کے پاس موجود ریکارڈ اور گومل یونیورسٹی کی جانب سے فراہم کردہ ریکارڈ میں نمایاں فرق پایا گیا، جبکہ بیشتر منسلک کالجز مبینہ طور پر حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے مقررہ علاقائی حدود سے باہر کام کر رہے ہیں۔محکمہ اعلیٰ تعلیم نے ایچ ای سی سے گومل یونیورسٹی اور اس کے نجی منسلک کالجز کی وابستگی، علاقائی دائرہ اختیار، داخلوں، حاضری، امتحانات اور جاری شدہ ڈگریوں کی جامع تصدیق کی سفارش کی ہے،مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے نجی کالجز یا پروگرامز میں مزید داخلوں پر عبوری پابندی عائد کرنے پر غور کیا جائے جو متعلقہ شعبے میں ہیرا کے ساتھ باقاعدہ رجسٹرڈ نہیں، جبکہ ایسے جاری شدہ ڈگریوں کی بھی تصدیق کی جائے جن کا طلبہ کا ریکارڈ نامکمل، گمشدہ یا مشکوک ہو۔