پشاور:(سی بی این پاکستان)خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال کے دوران محصولات اور غیر ٹیکس آمدن کی مد میں ریکارڈ وصولیاں کرتے ہوئے پہلی مرتبہ تقریباً ڈیڑھ سو ارب روپے سے زائد آمدن حاصل کر لی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے لیے مقررہ ریونیو ہدف نہ صرف حاصل کیا گیا بلکہ اسے کئی ارب روپے کے نمایاں فرق سے عبور بھی کر لیا گیا۔محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کے مطابق مالی سال کے لیے مجموعی ریونیو ہدف 129 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، تاہم مختلف محکموں کی بہتر کارکردگی کے باعث مجموعی وصولیاں اس ہدف سے کافی زیادہ رہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ محصولات میں یہ اضافہ صوبائی مالی نظم و نسق اور ریونیو اصلاحات کا نتیجہ ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے 7.5 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 8.55 ارب روپے وصول کیے۔ بورڈ آف ریونیو نے 6.5 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 6.745 ارب روپے کی آمدن حاصل کی۔ محکمہ توانائی و بجلی نے 14.985 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 16.812 ارب روپے وصول کرکے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی نے 57 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 54.134 ارب روپے جمع کیے۔حکام کے مطابق سروسز پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں میں ادارے نے سو فیصد سے زائد ہدف حاصل کیا، تاہم بارڈر بندش کے باعث انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی وصولیوں میں کمی آئی، جس کی وجہ سے مجموعی ہدف مکمل نہ ہو سکا۔دوسری جانب حکومتی ذرائع کے مطابق محصولات میں ریکارڈ اضافہ مالی نظم و ضبط، مؤثر ٹیکس وصولی اور مختلف محکموں کی بہتر کارکردگی کا نتیجہ ہے، جبکہ آئندہ مالی سال میں بھی ریونیو بڑھانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
ڈیڑھ سو ارب روپے سے زائد آمدن: محصولات وصولی میں خیبرپختونخوا کا نیا ریکارڈ
16
