(سی بی این پاکستان )وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پبلک فنانشل مینجمنٹ اینڈ ریونیو موبلائزیشن ریفارمز تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ 129 ارب روپے ہدف کے مقابلے میں خیبرپختونخوا نے 150ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل کر کے تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق صوبائی حکومت نے کوئی نیا ٹیکس عائد کیے بغیر موجودہ وسائل کے بہتر انتظام، ڈیجیٹائزیشن اور اصلاحات کے ذریعے ریونیو میں نمایاں اضافہ کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 74 برسوں میں صوبے کا ریونیو صرف 62 ارب روپے تھا، جو اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں بڑھ کر150 ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ رواں مالی سال کے لیے 180ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم حکومت کو امید ہے کہ اصلاحات اور مکمل ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے 200 ارب روپے تک ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام سرکاری محکموں کی 100 فیصد ڈیجیٹائزیشن مکمل کی جائے گی، سرکاری فائلوں کی ڈیجیٹل ٹریکنگ کا نظام نافذ ہو چکا جبکہ اہم عوامی خدمات مرحلہ وار آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت سستی بجلی سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی ٹرانسمیشن لائنز بچھانے پر کام کر رہی ہے، جس سے صنعت کاری اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان کے45 فیصد جنگلات موجود ہیں، جبکہ حکومت جنگلات کا رقبہ27 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور موٹر ویز کو گرین ویز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔اپنی تقریر میں وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وفاق اپنے ریونیو ہدف سے 1300 ارب روپے پیچھے رہا اور آمدن بڑھانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار نہیں کی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کے دور میں معیشت، صنعت، زراعت اور جی ڈی پی گروتھ بہتر رہی، جبکہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث تجارتی خسارہ، قرضوں اور برین ڈرین میں اضافہ ہوا۔
خیبرپختونخوا نے 150ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل کر کے ریکارڈ قائم کردیا، سہیل آفریدی
15
