Home پاکستاندہشت گردی خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ناگزیر ہیں، گورنر خیبرپختونخوا

دہشت گردی خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ناگزیر ہیں، گورنر خیبرپختونخوا

by adnan Shahid

(سی بی این پاکستان )گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ٹانک کی مانجھی خیل چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں 1300کلوگرام سے زائد بارودی مواد استعمال کیا گیا، جو دہشت گردوں کی منظم منصوبہ بندی اور ناپاک عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ریجنل پولیس آفس ڈیرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ اس افسوسناک حملے میں پاک فوج، پولیس اور محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جن کی قربانیاں قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی ادارے بیرونی اور اندرونی دشمنوں کے خلاف موثر انداز میں برسرپیکار ہیں۔فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ بھارت، ان کے بقول، افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور دہشت گرد عناصر کی سرپرستی کر رہا ہے۔گورنر نے کہا کہ وہ پاک فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ایسے بزدلانہ حملے قوم اور سکیورٹی فورسز کے حوصلے پست نہیں کر سکتے بلکہ دہشت گردی کے خلاف عزم کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں سے ملاقات کے دوران ان کے بلند حوصلے دیکھے، جبکہ آر پی او کی سفارشات وفاقی حکومت تک پہنچائی جائیں گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ زخمی اہلکاروں کے امدادی پیکج میں اضافے کے لیے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا سے بھی بات کریں گے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ شہدا اور زخمیوں کے بچوں کی سرپرستی ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ خطے کی بدلتی صورتحال کے باعث پاکستان کو دہشت گردی کے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی میں پاکستان کے کردار کے بعد بعض مخالف قوتیں پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ اکثر پاکستان کے خلاف استعمال ہوتا ہے، تاہم خیبرپختونخوا پولیس انتہائی بہادری اور پیشہ ورانہ انداز میں دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔گورنر نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پورے صوبے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس حوالے سے جلد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے بھی بات کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جسے اتحاد اور یکجہتی سے ہی جیتا جا سکتا ہے۔