Home پاکستانمالاکنڈ میں ٹیکس نفاذ مسترد: اے این پی کا احتجاجی تحریک شروع کرنے کا عندیہ۔

مالاکنڈ میں ٹیکس نفاذ مسترد: اے این پی کا احتجاجی تحریک شروع کرنے کا عندیہ۔

by adnan Shahid

(سی بی این پاکستان)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع میں وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیکس نفاذ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔اپنے بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ جس ریاست میں خود ریاست اپنے عوام سے کیے گئے وعدوں سے منحرف ہو جائے، وہاں وہ عوام سے وفاداری، اعتماد اور احترام کی توقع نہیں رکھ سکتی۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ریاستیں اپنے شہریوں کے ساتھ آئینی، قانونی اور سیاسی معاہدے کرتی ہیں اور جب ریاستیں ان وعدوں کی پاسداری کرتی ہیں تو عوام کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے، تاہم وعدوں سے انحراف عوام میں بداعتمادی اور بے یقینی کو جنم دیتا ہے۔اے این پی کے صدر نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن کے عوام پر ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ ریاست کی جانب سے اپنے تاریخی اور آئینی وعدوں کی خلاف ورزی ہے، جسے عوامی نیشنل پارٹی مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ان کے بقول یہ صرف ٹیکس کا معاملہ نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو مجروح کرنے کی کوشش ہے۔ایمل ولی خان نے اے این پی خیبرپختونخوا کی تنظیم کو ہدایت کی کہ مالاکنڈ ڈویژن کی تمام سیاسی جماعتوں، وکلا، تاجروں، سول سوسائٹی، نوجوانوں اور دیگر طبقات سے فوری رابطے کر کے اس فیصلے کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک کی تیاری کی جائے،انہوں نے واضح کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی اس فیصلے کی واپسی تک ہر سطح پر سیاسی، عوامی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔ایمل ولی خان نے مالاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے حکومتی اراکین، وزرا، مشیروں اور دیگر سرکاری عہدیداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا انہیں اپنی عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ نظر نہیں آ رہا اور اگر آج وہ خاموش رہے تو آئندہ عوام سے ووٹ کس بنیاد پر مانگیں گے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع کے عوام اپنے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے اور عوامی نیشنل پارٹی اس جدوجہد میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرے گی۔