Home پاکستانمون سون سیزن میں ہائی الرٹ، سیاحت کے فروغ کیلئے 50 کروڑ روپے مختص۔

مون سون سیزن میں ہائی الرٹ، سیاحت کے فروغ کیلئے 50 کروڑ روپے مختص۔

by adnan Shahid

(سی بی این پاکستان)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہزارہ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں، امن و امان، گورننس اور سروس ڈیلیوری سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں جاری منصوبوں کی پیش رفت اور عوامی خدمات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیراعلی نے مون سون سیزن میں ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ ہزارہ پیکج کے تحت سیاحت کے فروغ کے لیے 50 کروڑ روپے خصوصی طور پر مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ضرورت کے مطابق ان فنڈز میں مزید اضافہ بھی کیا جائے گا۔انہوں نے ضلع کولئی پالس اور الائی میں نئے سیاحتی مقامات کی نشاندہی اور ترقی کے لیے متعلقہ حکام کو خصوصی ہدایات جاری کیں۔اجلاس میں وزیراعلیٰ نے کولئی پالس اور بٹگرام کے درمیان چوڑ مالی ویلی اور بلیج ویلی کی حد بندی کے دیرینہ مسئلے کے مستقل حل کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینے کی ہدایت بھی جاری کی۔وزیراعلیٰ نے تمام ضلعی انتظامیہ کو مون سون سیزن میں لائی الرٹ رہنے، کنٹیجنسی پلانز پر فوری عملدرآمد اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری مکمل رکھنے کی ہدایت کی،انہوں نے کہا کہ ملکی اور غیر ملکی سیاح خیبرپختونخوا کے مثبت تشخص کے سفیر ہوتے ہیں، اس لیے انہیں بہترین سہولیات، رہنمائی اور مہمان نوازی فراہم کی جائے۔ سیاحتی علاقوں میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ٹریفک پلان بھی ترتیب دینے کی ہدایت کی گئی،وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومتی کارکردگی کا اصل معیار عوام کا اطمینان ہونا چاہیے، نہ کہ صرف پریزنٹیشنز، انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ کھلی کچہریوں اور عوامی رابطہ مہم میں منتخب عوامی نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ عوامی مسائل کا بروقت حل یقینی بنایا جا سکے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ رواں مالی سال کو امن، ترقی اور خوشحالی کا سال بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے صوبے میں امن و امان مزید بہتر بنانے کی خاطر پولیس کا بجٹ بڑھا دیا گیا ہے۔اجلاس میں وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہزارہ ڈویژن میں صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 139 ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ پاکستان سیٹیزن پورٹل پر درج 2,111 شکایات میں سے 1,879 نمٹا دی گئی ہیں،بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اوپن ڈور پالیسی کے تحت 100 سے زائد کھلی کچہریاں منعقد کی جا چکی ہیں، ایبٹ آباد اور بٹگرام میں زمینوں کا ریکارڈ 100 فیصد ڈیجیٹائز، جبکہ ہری پور کا 97 فیصد اور مانسہرہ کا 90 فیصد ریکارڈ بھی ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، ادھر ہزارہ ڈویژن میں 20 پولیس سہولت مراکز فعال ہیں جبکہ مزید 6 مراکز زیر تعمیر ہیں۔