Home جرم و سزاایبٹ آباد میں اقلیتی برادری کے ملازم پر تشدد

ایبٹ آباد میں اقلیتی برادری کے ملازم پر تشدد

by adnan Shahid

(سی بی این پشاور)ضلع ایبٹ آباد میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ایک صفائی کارکن نے الزام عائد کیا کہ اسے پانی پینے کے معاملے پر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس نے سوال کیا کہ کیا پانی پینا جرم ہے؟متاثرہ شخص کے مطابق واقعے کے دوران اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا اور اسے جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اس واقعے کے حوالے سے متعلقہ حکام یا پولیس کا باضابطہ مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔متاثرہ صفائی کارکن نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ واقعے کا غیرجانبدارانہ نوٹس لیا جائے، مکمل تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔واقعے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد بعض شہری اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کیا پانی پینا جرم ہے؟ اقلیتی برادری سمیت تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کو یقینی بنایا جائے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں