پشاور کے علاقہ تیراو فقیر کلے میں انسداد پولیو مہم کے دوران ایک نیا تنازعہ سامنے آیا ہے۔ ایل ایچ ڈبلیو رابعہ کے مطابق جمعرات کو ایک ٹیم ان کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے ان کے گھر آئی۔ جسے بتایا گیا کہ ان کے بچے رشتہ داروں کے گھر گئے ہیں۔ جس پر اسسٹنٹ ایڈیشنل کمشنر شاہ عالم محمد الیاس کے گنرز نے ان کے بھائی شوکت اور شوہر سعید کو تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی اٹھا کر اپنی ڈبل کیبن گاڑی میں ڈالنے کی کوشش کی۔ رابعہ نے مزید بتایا کہ اس واقعے کی ویڈیو بنا کر پناہ لینے گھر کے اندر بھاگی تو گنرز لیڈی پولیس کے بغیر ہی زبردستی گھر میں داخل ہو گئے جہاں مبینہ طور پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور موبائل فون توڑ دیا۔ ایل ایچ ڈبلیو رابعہ نے اس واقعے پر وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ سے غیر جانبدارانہ انکوائری اور ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی کر کے انہیں انصاف دلانے کا مطالبہ کیا,دوسری جانب ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر شاہ عالم محمد الیاس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ محمد الیاس کے مطابق وہ پولیو ٹیم کے ہمراہ بچوں کو قطرے پلانے عبدالسعید کے گھر گئے۔ جو گزشتہ کئی مہمات کے دوران بچوں کو پولیو سے بچاو قطرے پلانے سے انکار کر چکا تھا۔ اس لیے عبدالسعید کے بہنوئی شوکت کو خوش اسلوبی سے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم اس نے انکار کرتے ہوئے سرکاری اہلکاروں سے بدتمیزی کی۔ بعد ازاں شوکت نے ایک گنر سے سرکاری رائفل چھیننے کی کوشش کی اور اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔ جبکہ مسماۃ رابعہ نے جھگڑے کے دوران گنر کو تھپڑ بھی مارا۔ اس کے بعد ملزم شوکت کو قانونی کارروائی کے لیے گرفتار کر کے پولیس پوسٹ پجگی منتقل کر دیا گیا ہے۔
پشاور میں مبینہ طور پر پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہ پلانے والے شہری کو زبردستی گاڑی میں ڈالنے کی ویڈیو وائرل ۔۔
29
