پشاور:(سی بی این پاکستان) پشاور ہائیکورٹ نے ایڈورڈز کالج بورڈ آف گورنرز کی تشکیل نو اور انتظامی اختیارات سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا، عدالت نے بورڈ آف گورنرز کی تشکیل نو اور اسے دیے گئے انتظامی اختیارات کو درست قرار دیتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا کی درخواست خارج کردی۔پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد نے کیس کا 21 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈورڈز کالج پشاور کے بورڈ آف گورنرز کی تشکیل نو اور انتظامی اختیارات سے متعلق اقدام درست ہے۔کیس میں وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ گورنر خیبرپختونخوا کالج کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین تھے۔فیصلے کے مطابق صوبائی کابینہ نے اکتوبر 2025 میں اعلامیہ جاری کیا، جس کے تحت وزیراعلیٰ کو ایڈورڈز کالج کے بورڈ آف گورنرز کا چیئرمین مقرر کیا گیا اور گورنر خیبرپختونخوا کو اس عہدے سے ہٹا دیا گیا۔گورنر خیبرپختونخوا کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے بورڈ آف گورنرز کی تشکیل نو کا اقدام سپریم کورٹ کے فیصلے اور 1974 کے متعلقہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔وکیل کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔دوسری جانب ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت کو تعلیمی اداروں سے متعلق آرڈیننس کے تحت بورڈ آف گورنرز کی تشکیل نو کا قانونی اختیار حاصل ہے۔پشاور ہائیکورٹ نے فریقین کے دلائل اور متعلقہ قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد گورنر خیبرپختونخوا کی درخواست خارج کردی۔
گورنر یا وزیراعلیٰ؟ ایڈورڈز کالج بورڈ آف گورنرز سربراہی پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا
26
