Home پاکستانعالمی یومِ انسانیت: صدر مملکت اور وزیراعظم کا امدادی کارکنان کو خراجِ تحسین

عالمی یومِ انسانیت: صدر مملکت اور وزیراعظم کا امدادی کارکنان کو خراجِ تحسین

by adnan Shahid

اسلام آباد: (سی بی این پاکستان) صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی یومِ انسانیت کے موقع پر اپنے پیغامات میں انسانی ہمدردی، خدمتِ خلق اور انسانی وقار کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امدادی کارکنان اور انسانی خدمت میں مصروف اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ قدرتی آفات، بحرانوں اور ہنگامی حالات میں امدادی کارکنان کا کردار قابلِ تحسین ہے، وہ متاثرین کو بروقت مدد اور سہارا فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے سماجی کارکنان، طبی عملے، چائلڈ پروٹیکشن ورکرز اور انسانی حقوق کے کارکنان کی خدمات کو بھی قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ بحرانوں میں کسی فرد کو بے یار و مددگار نہ چھوڑنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، پاکستان انسانی ہمدردی، احترامِ انسانیت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے عزم پر قائم ہے، امدادی کارکنان معاشروں کو بحرانوں کا مقابلہ کرنے اور ان کے اثرات سے نکلنے میں مدد دیتے ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر انسانی ہمدردی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور آئینِ پاکستان و انسانی حقوق کے معاہدوں کے تحت ہر فرد کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی یومِ انسانیت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان دنیا کے ساتھ ہم آواز ہو کر جذبہ? خدمتِ خلق، انسانی ہمدردی، انسانی عزت و وقار اور یکجہتی جیسی مثبت اقدار سے اپنی وابستگی کے عزم کی تجدید کرتا ہے۔وزیراعظم نے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والے خدمت گاروں، اداروں اور تنظیموں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ انسانیت ہر سال ان 22 انسانیت کے خدمت گاروں کی یاد میں منایا جاتا ہے جو 2003 میں عراق میں اقوام متحدہ کے دفتر پر بم دھماکے میں جاں بحق ہوئے، یہ دن مصیبت زدہ علاقوں میں خدمات انجام دینے والوں کی قربانیوں کے اعتراف کا دن ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر انسانیت کے لیے جذبہ? ہمدردی رکھنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات کرنے والے ممالک میں نمایاں مقام رکھتا ہے، اقوام متحدہ کے امن دستوں میں پاکستان کی شمولیت ہمیشہ نمایاں رہی ہے جبکہ ضرورت مندوں کے ساتھ یکجہتی اور تعاون کی ملک میں ایک طویل اور قابلِ فخر روایت ہے۔انہوں نے کہا کہ لاکھوں افغان مہاجرین کی دہائیوں پر محیط میزبانی اور علاقائی و عالمی انسانی بحرانوں میں امداد کی فراہمی میں پاکستانی قوم نے فیاضی، ثابت قدمی اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا، جو انسانیت، مہمان نوازی اور باہمی تعاون کی قومی اقدار کا عکاس ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے اندر بھی آئینی اقدار اور قومی روایات انسانیت دوست قومی شناخت کی عکاسی کرتی ہیں۔ کمزور اور محروم طبقات کے حقوق اور وقار کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، حکومت مؤثر اقدامات کے ذریعے تمام افراد کے لیے بلاامتیاز ایک باوقار، مساوی اور بااختیار معاشرے اور مواقع تک رسائی کی منزل کی جانب گامزن ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی وزارتِ انسانی حقوق نے گزشتہ ایک برس کے دوران فلاحی مراکز، تربیتی اداروں اور تحفظ فراہم کرنے والی سہولیات کے نیٹ ورک کے ذریعے پالیسی وعدوں کو بامعنی انسانی ہمدردی پر مبنی اقدامات میں ڈھالا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزارتِ انسانی حقوق خصوصی افراد کے لیے سماجی شمولیت، ضروری شہری خدمات اور سہولیات تک رسائی کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ حکومت خواتین کی سماجی اور معاشی نظام میں شمولیت کے لیے بھی خصوصی اقدامات اٹھا رہی ہے۔وزیراعظم نے زور دیا کہ مقامی سطح پر انسانی حقوق، سماجی انصاف اور معاشرتی بہبود کے فروغ کے لیے کمزور اور محروم طبقات کا تحفظ، صنفی مساوات، بچوں کا تحفظ اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ انسانیت پر پاکستان اپنے قومی عزم کی تجدید کرتا ہے کہ آئینی اقدار کی رہنمائی میں ملک امن اور بحران، ہر صورتحال میں انسانیت کی اعلیٰ اقدار کے ساتھ کھڑا رہے گا اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں رہے گا کہ کمزور طبقات کو تحفظ، معاونت اور باوقار زندگی گزارنے کے مواقع میسر ہوں۔