صوابی (سی بی این پاکستان)ضع صوابی کی تحصیل گدون کے علاقے دالوڑی میں تباہ کن کلاوڈ برسٹ کو ایک سال مکمل ہوگیا، تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود متاثرین کے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی مکمل بحالی نہ ہوسکی۔کلاوڈ برسٹ کے بعد حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر نقد مالی امداد فراہم کی گئی تھی، تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ گھروں کی تعمیر نو، سڑکوں اور بجلی کے نظام کی بحالی کے وعدے تاحال پورے نہیں ہوئے۔دالوڑی کے متاثرین کے مطابق ایک سال گزرنے کے باوجود متعدد گھر بدستور تباہ حال ہیں، جبکہ علاقے میں بجلی کا نظام درہم برہم اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔متاثرین کا کہنا ہے کہ دالوڑی سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے حلقے میں واقع ہے، لیکن اس کے باوجود علاقے کی مستقل بحالی پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ایک متاثرہ شہری نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اس وقت نقد امداد تو دی گئی تھی، تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود ان کے گھر اسی طرح تباہ حال ہیں۔ایک اور متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ دالوڑی میں کلاو?ڈ برسٹ کے بعد بحالی کے جو وعدے کیے گئے تھے، وہ پورے نہیں ہوسکے۔ بجلی کا نظام بدستور متاثر ہے اور تعمیراتی کام بھی مکمل نہیں کیے گئے۔متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عارضی مالی امداد کے بجائے دالوڑی میں مستقل بنیادوں پر بحالی کا کام مکمل کیا جائے تاکہ وہ دوبارہ اپنے گھروں کو آباد کر سکیں۔ایک سال بعد بھی دالوڑی کے متاثرین حکومتی وعدوں کی تکمیل کے منتظر ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ ان کے گھر اور بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر کب بحال ہوگا؟
صوابی: دالوڑی کلاوڈ برسٹ کو ایک سال مکمل، متاثرین تاحال حکومتی امداد کے منتظر
4
