لاہور: (سی بی این پاکستان) لاہور ہائیکورٹ نے سنوکر کلب انتظامیہ کو مبینہ غیر قانونی ہراساں کرنے سے متعلق درخواست پر اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے سول لائنز پولیس لاہور کو درخواست گزار کلب کو غیر قانونی طور پر ہراساں کرنے سے روک دیا،عدالت نے سی سی پی او لاہور کو سول لائنز پولیس کے غیر قانونی اقدام کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس غلام سرور نہنگ نے سنوکر کلب کے مالک مدثر مجید کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ حکومت پنجاب نے سنوکر کلب چلانے اور اسے بند کرنے کے اوقات کار مقرر کر رکھے ہیں اور وہ حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق کلب چلا رہا ہے۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ اس کے باوجود تھانہ سول لائنز پولیس کی جانب سے اسے غیر قانونی طور پر تنگ اور ہراساں کیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس سنوکر کلب کو غیر قانونی قرار دے کر چلانے کی اجازت نہیں دے رہی۔دوران سماعت جسٹس غلام سرور نہنگ نے ریمارکس دیے کہ جب سنوکر کلب حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق چلایا جا رہا ہے تو پولیس قانون کے تحت درخواست گزار کلب کو کیسے ہراساں کر سکتی ہے۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ پولیس کو ناجائز تنگ اور ہراساں کرنے سے روکا جائے اور اسے حکومتی مقرر کردہ اوقات کار کے مطابق سنوکر کلب چلانے کی اجازت دی جائے۔عدالت نے سول لائنز پولیس کو درخواست گزار کو غیر قانونی طور پر ہراساں کرنے سے روک دیا اور سی سی پی او لاہور کو پولیس کے غیر قانونی اقدام کے خلاف قانون کے مطابق ایکشن لینے کی ہدایت کردی۔
سنوکر کلب انتظامیہ کو ہراساں کرنے سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
6
