(سی بی این پاکستان)جنوبی وزیرستان میں 21 گھنٹے لوڈشیڈنگ نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا، اس شدید گرمی میں جہاں اس قدر طویل لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کا کاروابر متاثر ہوا، وہیں اس گرمی میں شہری شدید گرمی سے بلبلا اٹھے، حالانکہ وانا 132 کے وی گرڈ سٹیشن سے 22 فیڈرز منسلک ہیں، شہریوں کے مطابق موجودہ بجلی کا نظام بڑھتی آبادی اور ضروریات پوری کرنے سے یہ فیڈر قاصر ہے۔جنوبی وزیرستان لوئر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 21 گھنٹوں تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، شہری علاقوں میں 24 گھنٹوں کے دوران صرف تین گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔اہل علاقہ نے بجلی کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور بجلی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنوبی وزیرستان میں نیا گرڈ سٹیشن قائم کیا جائے۔وانا گرڈ سٹیشن حکام کے مطابق جنوبی وزیرستان لوئر میں 132 کے وی گرڈ سٹیشن 2015 میں قائم کیا گیا تھا، جس سے 22 فیڈرز منسلک ہیں، ان کے مطابق موجودہ آبادی اور بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر علاقے میں ایک نئے گرڈ سٹیشن کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان کی آبادی چھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو بھی اسی بجلی کے نظام سے بجلی فراہم کی جاتی ہے، اس پر مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ علاقے کے 22 فیڈرز بھی مکمل طور پر فعال نہیں، جبکہ متعدد دور دراز علاقوں میں آج تک بجلی کی بنیادی سہولت دستیاب نہیں ہے۔شہریوں کا کہنا تھا کہ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث بعض علاقوں کے مکین اپنی مدد آپ کے تحت شمسی توانائی سے بجلی کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔آنگور اڈہ، زرملن، مانتوئی اور دیگر علاقوں کے مکین بھی بجلی کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، شہری علاقوں میں 21 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ کے باعث گھریلو، کاروباری اور دیگر ضروریات پوری کرنا مشکل ہوگیا ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا کہ 24 گھنٹوں میں صرف تین گھنٹے بجلی کی فراہمی کا سلسلہ ختم کرکے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کیا جائے اور کم از کم 8 سے 10 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے۔شہریوں کے مطابق وانا ایک اہم زرعی علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ زراعت سے وابستہ ہیں۔ علاقے میں مختلف اقسام کی سبزیاں اور پھل پیدا ہوتے ہیں جو ملک کے مختلف حصوں میں سپلائی کیے جاتے ہیں۔اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ طویل لوڈشیڈنگ سے گھریلو زندگی کے ساتھ ساتھ زراعت، کاروبار اور مقامی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے، اس لیے حکومت بجلی کے بحران کے مستقل حل کے لیے نئے گرڈ سٹیشن کے قیام سمیت فوری اقدامات کرے۔
جنوبی وزیرستان میں 21 گھنٹے لوڈشیڈنگ، شہری بلبلا اٹھے
5
