(سی بی این پاکستان )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030 کا باضابطہ اجراء کرتے ہوئے اسے پاکستان کی جامع ترین ڈیجیٹل پالیسیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ پالیسی عمران خان کے وژن ڈیجیٹل خیبرپختونخوا کو عملی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جبکہ اس سلسلے میں کے پی آئی ٹی بورڈ کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔بریفنگ کے مطابق ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی 2030 جو کہ 5 سٹریٹجک ستونوں، 9 بنیادی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز اور 915 سٹریٹجک انٹروینشنز پر مشتمل ایک جامع فریم ورک ہے، جس میں واضح اہداف، ٹائم لائنز اور عملدرآمد کا نظام شامل کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ حکومت کا مقصد تمام سرکاری خدمات کو مرحلہ وار آن لائن اور شہری مرکز بنانا ہے، تاکہ عوام کو غیر ضروری طور پر سرکاری دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں، خصوصاً دور دراز علاقوں کے شہری آسانی سے خدمات حاصل کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ پیپر لیس گورننس اور ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے شفافیت میں اضافہ ہوگا، جبکہ اس کے ساتھ جوابدہی کا نظام مضبوط ، سرکاری کارکردگی مزید بہتر اور انسانی مداخلت کم ہونے سے کرپشن کے امکانات بھی محدود ہوں گے۔حکومت کے مطابق پالیسی کے تحت ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹل مہارتیں، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل کاروبار سے متعلق تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت گرین آئی سی ٹی پروکیورمنٹ، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری کا قیام جیسے اقدامات بھی شامل ہیں، جن کا مقصد ماحول دوست اور پائیدار ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینا ہے۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال 129 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے ریونیو جمع کیا گیا، رواں مالی سال ریونیو کا ہدف 180 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ حکومت کو توقع ہے کہ وصولیاں 200 ارب روپے تک پہنچ جائیں گی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کامیابی کوئی نیا ٹیکس عائد کیے بغیر حاصل کی گئی۔
ڈیجیٹل خیبرپختونخوا کی جانب اہم پیشرفت، ٹرانسفارمیشن پالیسی 2030 لانچ
11
