بھارت کو ایک ہی دن میں دو بڑے دھچکے، آسٹریلیا نے ورلڈ کپ سے باہر کیا، آئرلینڈ نے تاریخی وائٹ واش کر دیا۔ بھارتی کرکٹ کے لیے یہ دن شاید حالیہ برسوں کے مشکل ترین دنوں میں شمار کیا جائے گا۔ چند ہی گھنٹوں کے وقفے میں بھارتی کرکٹ کو دو ایسے بڑے دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے نہ صرف شائقین کو حیران کر دیا بلکہ بھارتی کرکٹ کی مجموعی حکمتِ عملی، ٹیم سلیکشن اور مستقبل کے حوالے سے بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ ایک جانب ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آسٹریلیا نے ایک بار پھر اپنی برتری ثابت کرتے ہوئے بھارت کو سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا، جبکہ دوسری جانب مردوں کی ٹیم کو آئرلینڈ جیسی نو آموز ٹیم کے ہاتھوں دو میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں دو صفر سے تاریخی وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے بات کر لیتے ہیں خواتین کی، ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارتی ٹیم کا سیمی فائنل تک پہنچنے کا خواب ادھورا رہ گیا۔آسٹریلیا کے سامنے بھارتی خواتین ٹیم بے بس ہو کر رہ گئی۔ لارڈز کے تاریخی میدان میں کھیلے گئے اہم مقابلے میں بھارتی خواتین ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے چار وکٹوں کے نقصان پر 170 رنز کا عمدہ مجموعہ ترتیب دیا۔ کپتان ہرمن پریت کور نے صرف 27 گیندوں پر جارحانہ انداز میں 56 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جبکہ سمرتی مندھانا نے 38 اور شفالی ورما 34 رنز کا اضافہ کر کے ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچایا۔ تاہم آسٹریلیا نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ بڑے ٹورنامنٹس میں دباؤ کو سنبھالنا اس کی پہچان ہے۔ ایلیسے پیری کی ذمہ دارانہ نصف سنچری اور ایشلے گارڈنر کی ناقابلِ شکست اننگز نے بھارتی بولنگ اٹیک کو بے اثر بنا دیا۔ ایلیسے پیری کے 56 اور گارڈنر نے 53 رنز بنائے اور یوں آسٹریلیا نے مطلوبہ ہدف صرف 19 اوورز میں حاصل کر کے نہ صرف سیمی فائنل میں جگہ پکی کی بلکہ بھارت کا عالمی کپ کا سفر بھی ختم کر دیا۔ اب آسٹریلیا کا مقابلہ پہلے ویکی فائنل میں جنوبی افریقہ سے ہوگا، کامیابی کی صورت میں آسٹریلیا کی ٹیم فائنل تک پہنچ سکتی ہے اور فائنل جیت کر ساتویں مرتبہ ٹی 20 ورلڈ کپ کا ٹائٹل گھر لے جا سکتی ہے۔ بھارتی ٹیم کی یہ شکست اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ آسٹریلیا اب بھی خواتین کرکٹ میں سب سے مضبوط قوت کے طور پر اپنی حکمرانی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ دوسری جانب آئرلینڈ کے دورے پر موجود بھارت کی فل سٹرینتھ ٹیم کو مسلسل دوسرے ٹی 20 میچ بھی شکست کی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور آئرلینڈ نے ٹی 20 کرکٹ کے عالمی چیمپیئن کو دو میچز کی سیریز میں وائٹ واش کر دیا۔ آئرلینڈ نے ایسا کارنامہ انجام دیا جس کی شاید بہت کم لوگوں نے توقع کی تھی۔ پہلے ٹی ٹوئنٹی میں آئرلینڈ اپنے چھ اہم کھلاڑیوں کی عدم دستیابی کے باوجود میدان میں اترا۔ ابتدائی چار وکٹیں صرف 51 رنز پر گرنے کے بعد ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پوری ٹیم شاید سو رنز بھی نہ بنا سکے، لیکن کپتان لوکران ٹکر، گیرتھ ڈیلانی اور جارج ڈوکریل نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے اننگز کو سنبھالا اور ٹیم کا مجموعہ 182 رنز تک پہنچا دیا۔ جواب میں بھارتی بیٹنگ لائن مکمل طور پر دباؤ کا شکار دکھائی دی۔ پاور پلے میں تیز آغاز کے باوجود وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں اور پوری ٹیم 148 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ پہلے میچ کی کامیابی کے ہیرو بھارتی نژاد نوجوان فاسٹ بولر جے مونڈرا ثابت ہوئے، جنہوں نے اپنے پہلے ہی بین الاقوامی میچ کی پہلی گیند پر سنجو سیمسن کو آؤٹ کر کے یادگار آغاز کیا، جبکہ نوجوان بولر میتھیو ہولارڈ نے بھی عمدہ بولنگ کرتے ہوئے میچ کا نقشہ بدل دیا۔ بھارت کے لئے دوسرا ٹی 20 میچ پر حال میں جیتنا ضروری تھا تاکہ سیریز کو برابر کیا جا سکے، لیکن بدقسمتی سے حالات دوسرے میچ میں بھی بھارت کے لئے بہتر نہ ہو سکے۔ دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں بھی آئرلینڈ نے شاندار کارکردگی کا سلسلہ برقرار رکھا۔ ہیری ٹیکٹر اور بین کالیٹز کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی بدولت میزبان ٹیم نے 154 رنز بنائے۔ بھارتی ٹیم ہدف کے تعاقب میں صرف ایک رن سے کامیابی حاصل نہ کر سکی اور یوں دو میچوں کی سیریز دو صفر سے ہار گئی۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ آئرلینڈ نے بھارت کو کسی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش کیا، جو آئرش کرکٹ کی تاریخ کا ایک سنہری باب بن گیا۔ یہ وائٹ واش کی شکست عالمی چیمپئن کے لیے لمحۂ فکریہ بھی ہے۔ ایک ہی دن میں ہونے والی ان دو شکستوں نے بھارتی کرکٹ کے لیے کئی اہم سوالات جنم دے دیے ہیں۔ خواتین ٹیم ایک بار پھر بڑے مقابلے میں آسٹریلیا کی رکاوٹ عبور نہ کر سکی، جبکہ مردوں کی ٹیم ایسی آئرش سائیڈ کے سامنے ناکام رہی جس کے کئی اہم کھلاڑی انجری کے باعث دستیاب ہی نہیں تھے۔ یہ نتائج اس حقیقت کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی کرکٹ میں اب کسی ٹیم کو کمزور سمجھنا ممکن نہیں رہا۔ آئرلینڈ جیسی ابھرتی ہوئی ٹیمیں نہ صرف بڑی ٹیموں کو ٹکر دے رہی ہیں بلکہ انہیں شکست دے کر نئی تاریخ بھی رقم کر رہی ہیں۔ 2007 کے ورلڈ کپ میں پاکستان اور 2011 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف بڑی کامیابیوں کے بعد 2026 میں آئرلینڈ نے بھارت کے خلاف سیریز میں وائٹ واش کا کارنامہ بھی شامل کر لیا ہے۔ کرکٹ میں صرف بڑے نام، مضبوط ریکارڈ یا وسیع وسائل ہی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے۔ جذبہ، درست حکمتِ عملی، ٹیم ورک اور دباؤ میں بہتر فیصلے ہی اصل فرق پیدا کرتے ہیں۔ آئرلینڈ نے محدود تجربہ اور انجری مسائل کے باوجود دنیا کی طاقتور ترین ٹیموں میں شمار ہونے والے بھارت کو تاریخی شکست دے کر یہ ثابت کر دیا کہ اگر اعتماد اور عزم موجود ہو تو ناممکن بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا بھارتی کرکٹ انتظامیہ ان مسلسل ناکامیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرے گی یا یہ شکستیں محض ایک عارضی بحران ثابت ہوں گی۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ یہ دن بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں ایک تلخ یاد کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
بھارتی کرکٹ ۔ ایک دن میں دو ناکامیاں اور کئی سوالات
47
عمران یوسف زئی
previous post
