پشاور:(سی بی این پاکستان) پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت 28 پی ٹی آئی رہنماؤں کو گرفتار نہ کرنے سے متعلق سابقہ حکم برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ ضمانت کی درخواستیں ڈویژنل بینچ کو منتقل کر دیں، عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لیے 20 اکتوبر 2026 کی تاریخ مقرر کردی۔پشاور ہائیکورٹ میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے 28 رہنماؤں کی جانب سے دائر مشترکہ ضمانت کی درخواستوں پر کارروائی ہوئی۔ درخواست گزاروں نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق مختلف مقدمات میں نامزدگی اور ممکنہ گرفتاری سے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔اس سے قبل کیس کی سماعت کے لیے جسٹس اعجاز انور کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔ عدالت نے درخواست گزار رہنماؤں کو ذاتی حیثیت میں بھی پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔تازہ عدالتی پیش رفت کے مطابق درخواستوں کو مزید سماعت کے لیے ڈویژنل بینچ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے سہیل آفریدی سمیت 28 پی ٹی آئی رہنماؤں کو گرفتار نہ کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے۔اس حکم کے تحت درخواست گزاروں کو فی الحال عدالتی تحفظ حاصل رہے گا، تاہم درخواستوں پر حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 20 اکتوبر 2026 کو مقرر کی ہے، آئندہ سماعت پر ڈویژنل بینچ درخواستوں کا جائزہ لے گا اور مزید قانونی کارروائی آگے بڑھائے گا۔مشترکہ ضمانت کی درخواستوں میں درخواست گزاروں نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات اور گرفتاری سے قانونی تحفظ کی استدعا کی ہے۔ کیس میں آئندہ عدالتی کارروائی اہم ہوگی، تاہم حتمی نتیجے کا انحصار عدالت کے فیصلے پر ہوگا۔
سہیل آفریدی سمیت 28 پی ٹی آئی رہنماؤں کو گرفتار نہ کرنے کا حکم برقرار
14
