پشاور:(سی بی این پاکستان)یو این ایچ سی آر کے تحت افغان مہاجرین کے بچوں کو تعلیم دینے والے اساتذہ نے اپنے حقوق، سروس معاملات اور واجبات کی ادائیگی کے مطالبے پر احتجاجی دھرنا دے دیا۔خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے اساتذہ نے مطالبہ کیا ہے کہ طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے سروس فوائد، بقایاجات اور دیگر واجبات کی ادائیگی کے لیے واضح اور منصفانہ طریقہ کار وضع کیا جائے۔سینئر ٹیچر اور پرنسپل افتخار خان ترکئی نے کہا کہ بعض اساتذہ نے 30سے 35سال تک افغان مہاجرین کے بچوں کو تعلیم دینے کی خدمات انجام دیں، تاہم طویل عرصے تک خدمات کے باوجود انہیں اپنے مستقبل اور سروس فوائد کے حوالے سے واضح صورتحال سے آگاہ نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریٹائرڈ اساتذہ سمیت دیگر متعلقہ ملازمین کے واجبات اور بقایاجات کی ادائیگی میں تاخیر ختم کی جائے اور اساتذہ کے نمائندوں کے ساتھ فوری مذاکرات کیے جائیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ یو این ایچ سی آر اور متعلقہ حکام ان کے نمائندہ وفد سے مذاکرات کرکے مطالبات کے حل کے حوالے سے تحریری یقین دہانی کرائیں۔احتجاجی اساتذہ نے واضح کیا کہ جب تک ان کے مطالبات پر واضح فیصلہ نہیں کیا جاتا، دھرنا جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے سروس معاملات اور واجبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
پشاور: افغان مہاجرین کے بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ سڑکوں پر آگئے
11
