
دونوں کیمپس میں سکلز کے ساتھ فٹنس پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں جاری ریڈ بال اور وائٹ بال کیمپس میں 50 سے زائد کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ ڈائریکٹر سپورٹس اور ایکسرسائز میڈیسن پی سی بی جاوید مغل کے مطابق ریڈ بال کھلاڑیوں کی فٹنس کا جائزہ 24 ٹیسٹوں پر مشتمل نئے نظام کے تحت لیا گیا۔ ہر کھلاڑی کا بیس لائن ڈیٹا تیار کرنا اس ٹیسٹنگ کا بنیادی مقصد ہے، بیس لائن ڈیٹا سے کھلاڑیوں کی خوبیوں اور بہتری کے شعبوں کی نشاندہی ہوتی ہے، اس ڈیٹا کی مدد سے ہر کھلاڑی کے ساتھ انفرادی اور منظم انداز میں کام کیا جا رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ کوچز اور سپورٹ سٹاف کھلاڑیوں کی ضرورت کے مطابق ان پر کام کر رہے ہیں، کھلاڑیوں کے ساتھ فزیوتھراپسٹ اور سٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچز تعینات کیے گئے ہیں، میڈیکل سٹاف صبح اور شام کے سیشنز میں کھلاڑیوں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کھلاڑیوں کی انجریز کے علاج، فٹنس میں بہتری اور ریکوری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور خاص طور پر رننگ کیپسٹی، agility، سٹرینتھ اور ریکوری جیسے شعبوں پر کام کیا جا رہا ہے، کھلاڑیوں کو ڈائٹ، نیوٹریشن، ریکوری پر لیکچرز دیے گئے ہیں، جبکہ کھلاڑیوں کو اینٹی ڈوپنگ کے حوالے سے بھی آگاہی دی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ میں تین سے چار کھلاڑیوں کی فٹنس اور سٹرینتھ میں 40 سے 50 فیصد بہتری آئی ہے۔
