(سی بی این پاکستان) خیبرپختونخوا حکومت نے نشترآباد جنرل ہسپتال کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، یہ فیصلہ ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے جاری منصوبہ 30 جون کو ختم ہونے کے بعد کیا گیا، جس کے باعث محکمہ صحت نے ہسپتال کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک کی جانب سے مزید مالی معاونت نہ ملنے کے بعد محکمہ صحت نے نشترآباد جنرل ہسپتال کو مرحلہ وار نجی انتظام کے تحت چلانے کا فیصلہ کیا ہے،ابتدائی اور عارضی انتظام کے طور پر ہسپتال کو ایک این جی او کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ آئندہ مرحلے میں صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد ہسپتال ہیلتھ فاؤنڈیشن کے ذریعے آؤٹ سورس کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں تعینات مستقل سرکاری ملازمین کو پشاور کے بڑے تدریسی ہسپتالوں یا دیگر سرکاری طبی مراکز میں ایڈجسٹ کیا جائے گا، تاہم کنٹریکٹ اور ڈیلی ویج ملازمین کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے متعدد ملازمین کو فارغ کیا جا سکتا ہے۔ہسپتال کورونا وبا کے دوران صحت کی سہولیات میں اضافے اور مریضوں کو بہتر طبی خدمات فراہم کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا۔محکمہ صحت کے مطابق چونکہ ورلڈ بینک کا منصوبہ 30 جون کو اختتام پذیر ہو چکا ہے، اس لیے ہسپتال کو آؤٹ سورس کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ طبی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔
ورلڈ بینک منصوبہ ختم، نشترآباد جنرل ہسپتال میں انتظامی تبدیلی کا آغاز
20
