پشاور:(سی بی این پاکستان) پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر فضل شکور خان کے اغوا کیس میں دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے انویسٹی گیشن آفیسر کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔درخواست پر سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی، جبکہ اس موقع پر وکیل درخواست گزار بشیر وزیر، پولیس نمائندہ، اے اے جی بلال خان عدالت میں پیش ہوئے، فضل شکور خان کے مبینہ اغوا کے خلاف درخواست ان کے بھائی کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔سماعت کے دوران عدالت نے واقعے کی تحقیقات کرنے والے انویسٹی گیشن آفیسر کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کی۔عدالت نے مقدمے کی تفتیش اور صوبائی وزیر کے مبینہ اغوا سے متعلق پیش رفت جاننے کے لیے تفتیشی افسر کی طلبی کی، اور اس کے ساتھ ہی فضل شکور خان اغوا کیس کی سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کردی۔درخواست گزار کے وکیل بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی وزیر کو پشاور موٹروے ٹول پلازہ کے قریب دن دہاڑے اغوا کیا گیا۔درخواست کے مطابق سادہ کپڑوں میں مسلح افراد نے صوبائی وزیر کی گاڑی کے ٹائروں پر فائرنگ کی اور انہیں گاڑی سے نکال کر اپنے ساتھ لے گئے، اس واقعے کے حوالے سے تھانہ چمکنی میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا جا چکا ہے۔دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ فضل شکور وزیر برائے پبلک ہیلتھ ہے، انہیں 21 ستمبر کو پشاور ٹول پلازہ سے اٹھایا گیا، انہوں نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ کالے کپڑوں میں چار، پانچ بندوں نے گاڑی پر فائرنگ کی، جو صوبائی وزیر یا کسی اور کو بھی لگ سکتی تھی۔سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ یہ کون لوگ ہیں، فائرنگ ہوئی تو یہ کیا معاملہ ہوسکتا ہے، پولیس کیا کررہی ہے، اس معاملے میں کیا پیش رفت ہے۔اس پر پولیس کے وکیل نے جواب دیا کہ واقعے کی ایف آئی آر درج ہوگئی، تفتیش جاری ہے، اس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ جب اس میں ایف آئی ار درج ہوگئی تو پھر ہم کیا کرسکتے ہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے پولیس کے وکیل کے دلائل اور جج کے ریمارکس پر کہا کہ ہمارا تو الزام ہی پولیس پر ہے، کیو کہ وہاں پولیس سمیت ایجنسیوں کے اہلکار موجود تھے، پولیس وزیر کو نہیں بچا سکی، تو ہمیں کہا بچائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ سپیکر صوبائی اسمبلی کے کہنے پر ائی جی اسمبلی میں بھی پیش نہیں ہوئے۔ وکیل کے دلائل پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ یہ تو اب اپ لوگوں کی کمزوری ہے، ہمیں بتا دیں اگر مغوی کہیں پر ہے، تو ہم کسی کو بھیج دینگے۔وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ اپ پولیس بلائیں کہ انہوں نے ان دو دنوں میں کیا تحقیقات کی ہے، کیونکہ صوبے میں اغواکاری کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے واقعے سے متعلق سوالات کیے اور استفسار کیا کہ صوبائی وزیر کو لے جانے والے افراد کون تھے اور پولیس اس معاملے میں کیا کارروائی کر رہی ہے۔عدالت نے ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق بھی سوال کیا، جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔عدالت کی جانب سے اس امر پر بھی سوال اٹھایا گیا کہ موٹروے ٹول پلازہ کے قریب مختلف محکموں کے ناکے موجود ہونے کے باوجود واقعہ کیسے پیش آیا۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلال خان خلیل نے کہا کہ ایسے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کرانے کی درخواست صوبائی حکومت کی جانب سے کی جائے تو اس معاملے کو دیکھا جا سکتا ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے چیف جسٹس ہائیکورٹ کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔تحریک انصاف کے صوبائی وزیر کے اغوا کا مقدمہ تھانہ چمکنی میں ان کے بھائی میجر (ریٹائرڈ) انور عزیز کی مدعیت میں نامعلوم مسلح افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، ایف آئی آر کے مطابق انہیں چارسدہ سے پشاور آتے ہوئے موٹروے ٹول پلازہ کے قریب ان کی گاڑی کو روکا گیا۔
فضل شکور خان اغوا کیس، انویسٹی گیشن آفیسر پشاور ہائیکورٹ میں طلب
27
