پشاور:(سی بی این پاکستان) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے تحفظ کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف مربوط کارروائی ہوگی، اور اس سلسلے میں پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھائی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی اور ریاستی اداروں کو مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا، جس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، آئی جی ذوالفقار حمید اور مشاورتی کونسل کے ارکان نے شرکت کی۔اجلاس میں آئی جی پولیس نے صوبے میں امن و امان کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ گورنر نے کونسل اراکین کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے صوبے کو امن، استحکام اور ترقی کی طرف واپس لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔گورنر ہاؤس پشاور میں ہونے والے اجلاس میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر، طارق محمود پاشا، عثمان سیف اللہ خان، عامر جاوید، ڈاکٹر محمد ارشاد، کفایت اللہ خان، ڈاکٹر سید عامر عبداللہ، مولانا طیب قریشی، ڈاکٹر سرفراز علی شاہ اور آصف رفیق نے شرکت کی۔گورنر نے اجلاس کے دوران اعلان کیا کہ صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کیا جائے گا، جس میں سکیورٹی سے متعلق امور زیر غور آئیں گے۔عوام کے نام اپنے پیغام میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں، پولیس اہلکاروں، فوجی جوانوں، لیویز اہلکاروں، سرکاری ملازمین، علما، اساتذہ، تاجروں اور عام شہریوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب صوبے کو امن کا حق ملنا چاہیے۔گورنر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف مسلح عناصر تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان نیٹ ورکس اور معاون نظاموں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے جو دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے، قانون کی عملداری بحال کرنے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں گے۔گورنر فیصل کریم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد میں اضافہ کیا جائے گا، ان کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس کے اہلکاروں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔گورنر کے مطابق نیشنل ایکشن پلان اور انسداد دہشت گردی سے متعلق دیگر اقدامات پر مؤثر عمل درآمد بھی ترجیحات میں شامل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ شورش زدہ اضلاع میں ریاستی عمل داری بہتر بنانا ضروری ہے، ان علاقوں کے عوام نے دہشت گردی، نقل مکانی، بنیادی سہولیات کی کمی اور طویل محرومیوں کے باعث مشکلات برداشت کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان اضلاع کو تعلیم، صحت، روزگار، سڑکوں، بجلی، پانی اور انتظامی سہولیات کے حوالے سے صوبے کے دیگر علاقوں کے برابر مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔فیصل کریم کنڈی کے مطابق انتظامیہ کو جوابدہ بنانا اور عوام کو بااختیار کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہوگا، خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف مربوط کارروائی ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنانا کافی نہیں، بلکہ ان کی مالی معاونت، سہولت کاری، بھرتی کے نیٹ ورکس، غیر قانونی اسلحے، منشیات اور غیر قانونی نقل و حرکت سے متعلق معاون نظاموں کے خلاف بھی قانون کے مطابق اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے ماحول اور اس کے معاون نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے گی۔گورنر نے اپنے پیغام میں کہا کہ پختون دہشت گردی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے سب سے بڑے متاثرین میں شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے نوجوانوں کے مستقبل کو دہشت گردی کے سائے میں ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا اور نوجوانوں کو محفوظ مستقبل، ترقی اور بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف مربوط کارروائی ہوگی، گورنر فیصل کریم
1
