(سی بی این مانیٹرنگ ڈیسک) وینزویلا میں آنے والے ہولناک زلزلوں میں مرنے والوں کی تعداد 1400 سے تجاوز کر گئی ہے، حکام کا کہنا ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑنے لگی ہیں اور ہلاک شدگان کی تعداد میں بڑے اضافے کا خدشہ ہے۔ بدھ کو ملک کے شمالی حصے میں آنے والے یکے بعد دیگرے زلزلوں سے دارالحکومت کراکس سمیت بڑے علاقے میں عمارتیں تباہ ہوئیں جن کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ اتوار کو ملبے سے 33 افراد کو زندہ نکالا گیا۔ ایک برطانوی ریسکیو اہلکار کے مطابق ایسے حالات میں متاثرین کے زندہ نکلنے کی مدت 96 گھنٹے تک سمجھی جاتی ہے جو اتوار کی شام ختم ہو گئی اور اب امدادی کارکنوں کو ’معجزات‘ کی امید ہے۔ تلاش اور بچاؤ کے عمل میں حصہ لینے کے لیے غیرملکی ٹیموں کی وینزویلا آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ سینکڑوں بین الاقوامی امدادی کارکن وینزویلا پہنچ چکے ہیں جبکہ مزید کی آمد متوقع ہے تاہم ملبہ اٹھانے کے لیے درکار مشینری کی قلت ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں چار ہزار سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ وینزویلا میں حکومت کی جانب سے تاحال لاپتہ افراد کی تعداد کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں تاہم زلزلے کے بعد لاپتہ ہونے والے افراد کے بارے میں معلومات جمع کرنے والی ایک نجی ویب سائٹ کے مطابق 46 ہزار افراد ایسے ہیں جن کا زلزلے کے بعد اپنے اہلخانہ سے رابطہ نہیں ہوا ہے۔ امریکی ارضیاتی سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق بدھ کے روز آنے والے پہلے زلزلے کی شدت 7.2 تھی اور اس کے چند ہی سیکنڈ بعد اس سے بھی زیادہ طاقتور 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا۔
وینزویلا زلزلے، 1400 ہلاکتوں کی تصدیق، ہزاروں افراد تاحال لاپتہ
14
