(سی بی این پاکستان)خیبرپختونخوا میں غیرقانونی اسلحہ و منشیات سمگلنگ اور سپلائی کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پولیس نے اسلحہ اور منشیات سے متعلق 30 ہزار سے زائد مقدمات درج کیے، جبکہ ہزاروں ملزمان کو گرفتار کر کے بھاری مقدار میں اسلحہ اور منشیات برآمد کی گئیں۔پولیس حکام کو پیش کی گئی تفصیلی رپورٹ کے مطابق افغانستان سے متصل ہونے کے باعث پشاور بدستور غیرقانونی اسلحہ و منشیات کی نقل و حمل کے حوالے سے حساس ترین اضلاع میں شامل ہے،،رپورٹ کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران غیرقانونی اسلحہ، ہتھیاروں کی سمگلنگ اور سپلائی کے خلاف 21ہزار 903 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ اس دوران کارروائی کرتے ہوئے 21 ہزار 355ملزمان گرفتار کئے گئے۔پولیس نے ملزمان کے قبضے سے بھاری اسلحہ بھی برآمد کر لیا، جس میں 1,457 رائفلز، 2,994 شاٹ گنز، 25ہزار 805 پستول، 1,821 کلاشنکوف، 236 کالاکوف، 93 ہینڈ گرنیڈ، 8 سٹین گنز، 5ہزار117 ڈیٹونیٹرز، 1,215 ڈائنامائٹس اور ایل ایم جی سمیت دیگر اسلحہ شامل ہیں۔اسی طرح صوبے بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران 10,ہزار 197 ایف آئی آرز درج کی گئیں، جبکہ اس دوران 10,ہزار 711 ملزمان گرفتار کیے گئے، جبکہ ان سے مجموعی طور پر 9ہزار 158 کلوگرام منشیات برآمد کی گئیں،،حکام نے بتا یا کہ افغانستان اور قبائلی اضلاع سے ملحق ہونے کی وجہ سے پشاور غیرقانونی اسلحہ اور منشیات کی سمگلنگ کے لیے اہم گزرگاہ تصور کیا جاتا ہے، جس کے باعث یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے۔
خیبرپختونخوا میں اسلحہ و منشیات سمگلنگ میں اضافہ، پشاور بدستور حساس ضلع قرار
22
