خیبرپختونخوا حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دیں جبکہ پشاور میں افغان مہاجرین کو کرائے پر گھر اور فلیٹس دینے والے مالکان کو بھی نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق حکومت کی مقررہ ڈیڈ لائن کے قریب آتے ہی افغانستان واپس جانے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔11سے 16 جولائی کے دوران 23ہزار 336 افغان باشندے وطن واپس جا چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق ڈیڈ لائن سے قبل روزانہ تقریباً 400سے 600افغان باشندے واپس جا رہے تھے، تاہم اب یہ تعداد بڑھ کر 3ہزار 400سے 4ہزار 100یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔محکمہ داخلہ کے مطابق مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران 2ہزار 163غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو پولیس نے حراست میں لینے کے بعد افغانستان ڈی پورٹ کر دیا، جبکہ صرف پشاور میں گزشتہ پانچ روز کے دوران چھاپوں میں 600سے زائد افغان باشندوں کو گرفتار کرکے واپس بھیجا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور کے مختلف علاقوں میں افغان مہاجرین کو کرائے پر رہائش فراہم کرنے والے مالکان کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں، جن میں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں سے گھر اور فلیٹس خالی کرائیں۔انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت میں احکامات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ مالکان کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پشاور میں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن تیز، گھروں کے مالکان کو نوٹسز جاری
17
previous post
