پشاور:(سی بی این پاکستان) خیبرپختونخوا میں جانوروں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے اینیمل ویلفیئر ایکٹ 2024 پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی گئی۔سوات سے تعلق رکھنے والی کارکن سدرہ پرویز نے وکیل محمد یوسف اورکزئی کے ذریعے رٹ پٹیشن دائر کی ہے، جس میں صوبائی حکومت کے متعلقہ محکموں کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، محکمہ زراعت و لائیو سٹاک، محکمہ بلدیات، محکمہ کلائمیٹ چینج، محکمہ جنگلات و ماحولیات اور محکمہ وائلڈ لائف سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت نے 2024 میں جانوروں کے تحفظ کے لیے اینیمل ویلفیئر ایکٹ منظور کیا، تاہم قانون پر مؤثر عملدرآمد کے لیے تاحال ضروری قواعد و ضوابط وضع نہیں کیے گئے۔درخواست کے مطابق ایکٹ کے تحت جانوروں کے تحفظ اور قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے انسپکٹرز تعینات نہیں کیے گئے جبکہ اینیمل ویلفیئر بورڈ بھی قائم نہیں کیا گیا۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ متعلقہ حکام کو قانون کے تحت ضروری اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت کی جائے تاکہ جانوروں کے تحفظ کے لیے وضع کردہ قانونی نظام فعال ہوسکے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبے میں آوارہ کتوں کو زہر دینے اور فائرنگ کے ذریعے مارنے سمیت جانوروں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ آوارہ جانوروں کو زہر، فائرنگ یا دیگر ظالمانہ طریقوں سے ہلاک کرنے سے روکا جائے اور جانوروں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق اقدامات یقینی بنائے جائیں۔آئینی درخواست میں خیبرپختونخوا کے بڑے شہروں میں سرکاری اینیمل شیلٹر ہومز قائم کرنے اور جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے اینیمل ویلفیئر کمیٹیاں تشکیل دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
خیبرپختونخوا اینیمل ویلفیئر ایکٹ پر عملدرآمد ندارد، پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
15
previous post
