(سی بی این پاکستان)لاہور ہائیکورٹ نے ٹیکس دہندگان کے خلاف ایف آئی آرز کے اندراج سے متعلق آئینی درخواستیں خارج کردیں۔جسٹس حسن مخدوم اور جسٹس خالداسحاق نے محمود اخترسمیت دیگرکی درخواستوں پرتحریری فیصلہ جاری کردیا،عدالت نیقراردیاکہ درخواستیں بیبنیادہونیکی بنیاد پر خارج کی جاتی ہیں، تفتیشی ایجنسی اور متعلقہ عدالت قانون،دستیاب مواد اور شواہد کی روشنی میں فیصلہ کریں۔فیصلے میں واضح کیاگیاکہ ہائیکورٹ کاموجودہ فیصلہ کسی عدالت یا تفتیشی ایجنسی پرمنفی اثر نہیں ڈالے گا،اس مرحلے پر یہ فیصلہ نہیں کیا جا رہا کہ درخواست گزاروں پر ٹیکس واجب الادا ہے یا نہیں،ٹیکس کی ادائیگی سے متعلق فیصلہ متعلقہ فورم شواہد کی بنیاد پر کرے گا۔درخواست گزاروں نیڈی جی انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کی کارروائی کو چیلنج کیا تھا، درخواست گزاروں کامؤقف تھا کہ ٹیکس واجب الادا نہ ہونے پرنوٹسز جاری کییگئے،مبینہ جواب دینے کے بعد ایف آئی آرز درج کی گئیں اورمعاملہ انکم ٹیکس ٹربیونل میں زیر سماعت ہے۔درخواست گزاروں کیمطابق ٹیکس افسر کے سامنے معاملہ زیر سماعت ہونے کے دوران ایف آئی آرز کا اندراج غیرقانونی اور بے بنیاد ہے۔
ٹیکس دہندگان پر ایف آئی آرز درج کرنے کے خلاف آئینی درخواستیں خارج
15
