پشاور:(سی بی این پاکستان)صوبائی وزیر فضل شکور خان کی مبینہ بازیابی سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ نے آئی جی خیبرپختونخوا پولیس سے رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے تفتیش میں اب تک ہونے والی پیش رفت سے متعلق تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی، سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ فضل شکور خان پشاور آ رہے تھے کہ راستے میں مسلح افراد نے ان کی گاڑی روک کر انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔اس پر جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ صوبائی وزیر اسلام آباد جا رہے تھے یا پشاور آ رہے تھے؟وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی خیبرپختونخوا پولیس کو صوبائی اسمبلی کے اسپیکر نے اسمبلی طلب کیا تھا تاہم وہ وہاں نہیں آئے۔وکیل نے استدعا کی کہ آئی جی پولیس کو عدالت طلب کیا جائے کیونکہ ان کے بقول آئی جی کو معاملے سے متعلق معلومات ہیں۔وکیل نے مزید بتایا کہ فضل شکور خان کی بازیابی اور واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے لیے بھی درخواست دائر کی گئی ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیس میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ صوبائی وزیر کے ڈرائیور اور سکیورٹی گارڈ کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔تفتیشی افسر کے مطابق ڈرائیور اور سکیورٹی گارڈ نے بیان دیا کہ تقریباً 14سے 15افراد نے گاڑی کو روکا اور صوبائی وزیر کو اپنے ساتھ لے گئے۔عدالت نے کہا کہ آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کی جاتی ہے، رپورٹ آنے کے بعد معاملے کو مزید دیکھا جائے گا۔پشاور ہائیکورٹ نے آئی جی خیبرپختونخوا پولیس سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔
فضل شکور بازیابی کیس، پشاور ہائیکورٹ نے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کرلی
19
