Home بزنسزرعی اسٹوریج کیلیے 7۔1 ارب مختص کرنے پر اظہار تشویش

زرعی اسٹوریج کیلیے 7۔1 ارب مختص کرنے پر اظہار تشویش

Warning: Camera accessories you shouldn’t buy cheap

by cbnpakistanoffical@gmail.com

مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں زرعی ذخیرہ گاہوں اور اسٹوریج انفرااسٹرکچرکیلیے صرف 7۔1 ارب روپے مختص کیے جانے پر ماہرین نے تحفظات کااظہارکیاہے،جبکہ پاکستان میں صرف گندم کے سالانہ نقصانات کا تخمینہ 140 ارب روپے سے زائد لگایاجاتاہے۔

ایگریکلچر ریپبلک کے شریک بانی عامر حیات بھنڈارا نے کہاکہ پاکستان کاذخیرہ جاتی نظام زرعی ویلیوچین کی سب سے کمزورکڑیوں میں شمارہوتاہے۔

ملک کو ناکافی گوداموں،فرسودہ ذخیرہ گاہوں،کولڈچین کی شدیدکمی،ناقص ہینڈلنگ اور کیڑوں و نمی سے ہونیوالے نقصانات جیسے مسائل کاسامناہے،گندم کیلیے سرکاری خریداری نظام کے تحت نسبتاً بہتر انتظامات موجودہیں، تاہم مکئی، دالوں، پھلوں اور سبزیوں سمیت دیگر فصلیں بعد ازبرداشت نقصانات کے حوالے سے انتہائی غیرمحفوظ ہیں۔