سائنس دانوں کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ قدیم چینی طب میں استعمال ہونے والی ایک جڑ گنج پن کا علاج کر سکتی ہے۔
اینڈروجینیٹک ایلوپیشیا بالوں کے جھڑنے کی سب سے عام قسم ہے، جو دنیا بھر میں لاکھوں مردوں اور خواتین کو متاثر کرتی ہے۔ یہ مسئلہ آہستہ آہستہ پیدا ہوتا ہے، کیونکہ وقت کے ساتھ بالوں کے فولیکلز (جڑیں) سکڑنے لگتے ہیں۔ جب فولیکلز چھوٹے ہوتے جاتے ہیں تو وہ پہلے کے مقابلے میں باریک، کمزور اور چھوٹے بال پیدا کرتے ہیں، یہاں تک کہ بالوں کی افزائش بہت کم ہو جاتی ہے یا مکمل طور پر رک سکتی ہے۔
موجودہ علاج، جیسے فائناسٹرائیڈ اور مینوکسیڈل، بعض افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں، لیکن ہر کسی کے لیے مثالی نہیں ہیں۔ فائناسٹرائیڈ اُن ہارمونز کو نشانہ بناتی ہے جو بالوں کے فولیکلز کو سکڑنے کا باعث بنتے ہیں جبکہ مینوکسیڈل کو سر کی جلد پر لگایا جاتا ہے تاکہ بالوں کی نشوونما کو تحریک مل سکے۔
تاہم، کچھ مریض ان ادویات کے ممکنہ مضر اثرات کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں، جیسے فائناسٹرائیڈ سے منسلک جنسی مسائل یا مینوکسیڈل سے ہونے والی سر کی جلد کی جلن۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ ایسے متبادل علاج کی تلاش میں رہتے ہیں جو زیادہ محفوظ، قدرتی اور ہمہ جہت محسوس ہوں۔
ایک نئی سائنسی تحقیقاتی جائزے کے مطابق Polygonum multiflorum نامی جڑ (جو صدیوں سے روایتی چینی طب میں استعمال ہو رہی ہے) اینڈروجینیٹک ایلوپیشیا کے علاج کے لیے خاص توجہ کی مستحق ہو سکتی ہے۔ یہ جڑی بوٹی ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے سے استعمال کی جا رہی ہے اور روایتی طور پر اسے ’بالوں کو سیاہ کرنے اور جسمانی جوہر کو تقویت دینے‘سے جوڑا جاتا ہے۔