پشاور:(سی بی این پاکستان) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ توانائی و برقیات کے جاری منصوبوں اور اہم امور سے متعلق اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ وفاق کے ذمے بقایات 2300ارب سے متجاوز ہیں، صوبہ کو حق نہیں مل رہا، خیبرپختونخوا ٹرانسمیشن لائن اور گرڈ نظام قائم کرے گا، جو کہ بہت فائدہ مند ہے۔اجلاس میں صوبے کے بجلی، گیس، تیل اور ایل پی جی کے وسائل اور وفاق سے واجبات سمیت مختلف معاملات پر بریفنگ دی گئی، وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا کی ہائیڈل بجلی، تیل، گیس اور ایل پی جی کے وسائل ملکی ضروریات کا اہم حصہ پورا کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا ملک کی مجموعی ہائیڈل بجلی پیداوار کا 70 فیصد سے زائد نیشنل گرڈ کو فراہم کر رہا ہے، تاہم صوبائی ٹرانسمیشن لائن نہ ہونے کے باعث صوبہ اپنی پیدا کردہ بجلی وفاق کو فروخت کرنے پر مجبور ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اے جی این قاضی فارمولے کے تحت وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے نیٹ ہائیڈل پروفٹ (این ایچ پی) کے بقایاجات 2300 ارب روپے سے تجاوز کرچکے ہیں۔اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پہلے عبوری انتظام کے تحت باقاعدہ این ایچ پی کی مد میں بھی وفاق کے ذمے 78 ارب روپے سے زائد کے بقایاجات ہیں، جبکہ ملک کی 70 فیصد سے زائد ہائیڈل بجلی پیدا کرنے کے باوجود این ایچ پی کی مد میں پنجاب کو خیبرپختونخوا سے زیادہ رقوم مل رہی ہیں۔گزشتہ تین سال کے اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا کو این ایچ پی کی مد میں 87.7 ارب روپے ملے جبکہ پنجاب کو 160.8 ارب روپے ادا کیے گئے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ این ایچ پی کی ادائیگی میں تاخیر اور عدم تناسب سے خیبرپختونخوا کی مالی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا بجلی کی قابل اعتماد ترسیل اور صنعتی ضروریات پوری کرنے کے لیے صوبائی ٹرانسمیشن اور گرڈ نظام قائم کر رہا ہے، وزیراعلیٰ نے اس اہم ترین منصوبے کو سرمایہ کار کانفرنس میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ منصوبہ انتہائی منافع بخش ہے اور متعدد ممالک اس میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا روزانہ 530 ایم ایم سی ایف ڈی قدرتی گیس پیدا کر رہا ہے جبکہ صوبے کی یومیہ کھپت صرف 200 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔وزیراعلیٰ نے آئین کے آرٹیکل 158 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گیس پیدا کرنے والے صوبے کو اپنی ضروریات پوری کرنے میں ترجیح حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل اور توانائی کی پیداوار کے باوجود خیبرپختونخوا کے عوام کو ان کے وسائل کا فائدہ نہ ملنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا یومیہ 850 ٹن ایل پی جی پیدا کر رہا ہے جبکہ صوبے کی روزانہ کھپت 600 ٹن ہے۔حکام کے مطابق خیبرپختونخوا ملکی خام تیل کا 48 فیصد اور ایل پی جی کا 38 فیصد فراہم کرتا ہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ اپنے وسائل کے باوجود خیبرپختونخوا کے عوام کو ان کا جائز فائدہ نہ ملنا ان کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ معاملہ مضبوط اور باضابطہ انداز میں اٹھایا جائے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اگر وفاقی حکومت کی جانب سے ریلیف نہ ملا تو خیبرپختونخوا کے حقوق کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا جائے۔
پشاور، خیبرپختونخوا ٹرانسمیشن لائن اور گرڈ نظام قائم کرنے کا فیصلہ
22
