(سی بی این پاکستان) قبائلی اضلاع کے تاجر ٹیکسوں کیخلاف ڈٹ گئے، اس سے قبل انہوں نے حکومت کو احتجاج کی دھمکی دی تھی، جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے آج لنڈی کوتل میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کر دی گئی ہے۔قبائلی علاقوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف آج لنڈی کوتل میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی اور تمام کاروباری امور ٹھپ رہے، بازاروں میں ہو کا عالم ۔تاجروں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں کاروباری حالات ویسے ہی انتہائی خراب ہیں، ایک طرف تاجر طورخم بارڈر کی بندش کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، دوسری طرف وفاقی حکومت کے ظالمانہ ٹیکس ہیں، تاجر جائیں تو کہاں جائیں۔ہرٹال کے دوران تاجروں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عائد کردہ ٹیکس ظالمانہ ہیں، جن کی ادائیگی کے لیے تاجر قطعی تیار نہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت اپنے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لے۔یاد رہے کہ فاٹا میں ٹیکسز کے خلاف لنڈیکوتل بازار میں مکمل شٹرڈاؤن رہا اور تاجروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔اس کے علاوہ مالاکنڈ میں بھی اس سلسلے میں احتجاج کا سلسلہ جاری، اور مطالبات حکومت کے سامنے رکھے گئے ہیں، کہ ٹیکس کے حوالے سے کیا جانے والا فیصلہ فوری واپس لیا جائے۔
قبائلی اضلاع کے تاجر ڈٹ گئے، ٹیکسز کیخلاف لنڈی کوتل میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال
14
