Home پاکستانشہداء کی قربانیاں کسی ایک جماعت یا فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مشترکہ سرمایہ ہیں

شہداء کی قربانیاں کسی ایک جماعت یا فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مشترکہ سرمایہ ہیں

by adnan Shahid

(سی بی این پاکستان)آج یونین کونسل پشتہ خرہ پایان کے سیاسی و سماجی قائدین، عمائدینِ علاقہ، مشران، نوجوانوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے نمائندگان کے ایک ہنگامی و نمائندہ اجلاس میں متفقہ طور پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ”فیاض خلیل شہید چوک” ماضی میں بھی اسی نام سے موسوم تھا، آج بھی اسی نام سے پہچانا جاتا ہے، اور مستقبل میں بھی اس کی شناخت برقرار رکھی جائے گی۔اجلاس کے شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ شہداء کی قربانیاں کسی ایک جماعت یا فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مشترکہ سرمایہ ہیں، لہٰذا ان کی یادگاروں، شناخت اور ناموں کا تحفظ ہم سب کی قومی و اخلاقی ذمہ داری ہے،اجلاس نے پی ڈی اے اور صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ اگر فیاض خلیل شہید چوک کی جگہ فلائی اوور یا انڈر پاس تعمیر کیا جا رہا ہے تو اس منصوبے کو باضابطہ طور پر ”شہید فیاض خلیل فلائی اوور” یا ”شہید فیاض خلیل انڈر پاس” کے نام سے منسوب کیا جائے، تاکہ شہید کی قربانی کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھا جا سکے۔اجلاس نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی سطح پر اس تاریخی شناخت کو تبدیل کرنے، ختم کرنے یا اس کے خلاف کسی قسم کی سازش کی گئی تو یونین کونسل پشتہ خرہ پایان کے عوام، تمام سیاسی و سماجی قوتیں اور اہلِ علاقہ متحد ہو کر اس کی بھرپور، آئینی اور پُرامن مزاحمت کریں گے اور اپنے متفقہ فیصلے کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری و قانونی فورم پر آواز بلند کریں گے،شہداء ہماری شناخت ہیں، اور ان کی عزت، نام اور یادگاروں کا تحفظ اہلِ علاقہ کے لیے ناقابلِ سمجھوتہ ہے،