لاہور (سی بی این پاکستان)خیبرپختونخوا میں اب تک کتنی مرتبہ گورنر راج رہا۔۔۔؟اس حوالے سے تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائیں تو صوبے میں گورنر راج کا نفاذ پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ چوتھی مرتبہ گورنر راج کا نفاذ کیا گیا ہے جس کے باعث اختیارات منتخب صوبائی حکومت سے گورنر کو منتقل ہوگئے ہیں۔پہلی مرتبہ ذوالفقارعلی بھٹو کی مرکزی حکومت نے 1975ء میں گورنر راج کا نفاذ کرتے ہوئے ایمرجنسی ڈیکلیئر کر دی تھی جب حیات محمدخان شیرپاؤ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں تقریر کے دوران بم دھماکے میں شہید ہوگئے۔اس کے بعد نیپ پر پابندی کے ساتھ صوبہ گورنر راج کی زد میں آیا اور گرفتاریاں بھی کی گئیں۔ دوسری مرتبہ 1994 میں اس وقت گورنر راج کا نفاذ کیا گیا جب بینظیربھٹو کی مرکزی حکومت نے مسلم لیگ(ن) کے وزیراعلیٰ پیرصابرشاہ کی حکومت کے خلاف ایکشن لیا۔ وزیراعلیٰ پیرصابرشاہ کے خلاف تحریک عدم اعتمادآگئی اور صوبے میں آفتاب احمدخان شیرپاؤ نے اپنی حکومت قائم کی۔تیسری مرتبہ 1999 میں صدر پرویزمشرف کی جانب سیصوبہ گورنرکے حوالے کردیا گیا،? اس وقت کے مسلم لیگ کے گورنر میاں گل اورنگزیب کو ہٹا کر لیفٹیننٹ جنرل(ر) محمد شفیق کو صوبے کا گورنر لگایاگیا اور اختیارات ان کے حوالے کیے گئے۔لیفٹیننٹ جنرل(ر) سید افتخارحسین کو بعد ازاں صوبے کا گورنر لگا دیا گیا جنہوں نے نومبر اور? دسمبر 2002 میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے قیام تک اپنی تشکیل کردہ کابینہ کے ساتھ صوبے کا اں تظام چلایا۔خیبرپختونخوا میں اب چوتھی مرتبہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے محمد سہیل آفریدی کی حکومت کو معطل کرتے ہوئے گورنر راج کا نفاذ کیا گیا ہے اور صوبے کے گورنر فیصل کریم کنڈی عبوری کابینہ کے ساتھ صوبے کا انتظام چلائیں گے۔?
خیبرپختونخوا میں اب تک کتنی مرتبہ گورنر راج رہا؟
3
