اسلام آباد (سی بی این پاکستان) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے خیبرپختونخوا حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کے ساتھ مذاکرات اور تعاون کے تمام راستے آزما لیے، تاہم حالات کے پیش نظر ایک مشکل آئینی راستہ اختیار کرنا پڑا۔محسن نقوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر اپنے بیان میں کہا کہ حکومت اور اس کے اتحادیوں نے پارلیمانی روابط، براہِ راست مذاکرات اور پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے خیبرپختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطوں کی تمام ممکنہ کوششیں کیں۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کا بھاری بوجھ برداشت کر رہا ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز اور شہریوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، ایسے حالات میں محاذ آرائی کے بجائے باہمی تعاون کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ نہ تو کوئی سیاسی فیصلہ تھا اور نہ ہی آسان قدم، بلکہ زمینی حالات کے باعث ایک مشکل آئینی راستہ اختیار کرنا پڑا۔محسن نقوی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جب تعاون کے تمام راستے ختم ہو جائیں تو آئین اور پاکستان کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔وفاقی وزیر داخلہ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے اور ملک و قوم کو پائیدار امن عطا کرے۔
خیبرپختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی سے تعاون کے تمام راستے آزما لیے، مشکل آئینی فیصلہ کرنا پڑا، محسن نقوی
3
