Home پاکستانکسی میں آواز اٹھانے کی جرات نہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ڈرون حملوں پر بے بسی تسلیم کرلی۔

کسی میں آواز اٹھانے کی جرات نہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ڈرون حملوں پر بے بسی تسلیم کرلی۔

by adnan Shahid

(سی بی این پاکستان )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ڈرون حملوں میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس اور بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرون حملوں کی غلط معلومات فراہم کرنے والوں اور کارروائیاں کرنے والوں کے خلاف کارروائی کون کرے گا، کیا پاکستان میں کسی میں اتنی جرات ہے کہ ان کے خلاف آواز اٹھائے یا ایف آئی آر درج کرے؟پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بانی چئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق میرٹ اور شفافیت کو ہر شعبے میں اولین ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومت سیاسی مداخلت اور اقربا پروری کے بجائے صرف اہلیت کو معیار بنا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف صف اول میں لڑ رہی ہے اور اس فورس نے امن کے قیام کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔وزیراعلیٰ کے بقول بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے ملک کو بدامنی کی طرف دھکیلا، تاہم خیبرپختونخوا پولیس نے گزشتہ 22 برس کے دوران جرات، استقامت اور قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کی۔سہیل آفریدی نے پولیس کے شہدا، غازیوں اور جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی صوبے پر مسلط کی گئی اور حکومت امن کے مکمل قیام تک اس ناسور کے خلاف بھرپور جنگ جاری رکھے گی۔انہوں نے پولیس فورس میں خواتین کانسٹیبلز کی شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔سیاسی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئین ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، تاہم گزشتہ 78 برس سے جمہوری عمل کو محدود کیا جاتا رہا اور اس کا ملبہ سیاستدانوں پر ڈالا جاتا رہا۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ وزیراعلی کا منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے انصاف کے حصول کے لیے ہر قانونی دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن انہیں انصاف فراہم نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات میں نہتے کارکنوں پر فائرنگ کی گئی، جبکہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتی نظام مفلوج ہو چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جلسوں پر مقدمات درج کیے جاتے ہیں، حتی کہ کم عمر بچوں کو بھی نامزد کیا جاتا ہے، لیکن دوسری جانب ڈرون حملوں میں انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجود متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوتی۔وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ ملک میں قانون کی یکساں حکمرانی، انصاف کی فراہمی اور آئین کی بالادستی ہی پائیدار امن اور جمہوری استحکام کی ضمانت ہے۔