لاہور: (سی بی این پاکستان) پمز واقعے کے بعد پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں کا دوسرا فائر سیفٹی آڈٹ مکمل کر لیا گیا، جس میں پہلے آڈٹ کے مقابلے میں حفاظتی اقدامات کے تمام 7 پیمانوں پر بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پنجاب کے 239 سرکاری ہسپتالوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا گیا، جن میں 56 ٹرشری کیئر، 41 ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) اور 142 تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) ہسپتال شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 710 فائر ہائیڈرنٹس نصب کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جن میں سے 691 نصب کیے جا چکے ہیں، لاہور اور راولپنڈی ڈویژن کے ہسپتالوں میں فائر ہائیڈرنٹس کی تنصیب 100 فیصد مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ فیصل آباد میں 89 میں سے 86 اور بہاولپور میں 69 میں سے 61 ہائیڈرنٹس نصب کیے گئے ہیں۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق ہسپتالوں میں سیفٹی مینیجرز کی تعیناتی میں بھی اضافہ ہوا ہے، پہلے 157 ہسپتالوں میں سیفٹی مینیجرز تعینات تھے، جن کی تعداد بڑھ کر 225 ہو گئی ہے، اسی طرح 56 ٹرشری ہسپتالوں میں سیفٹی مینیجرز کی تعداد 29 سے بڑھا کر 44 کر دی گئی ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب کے 212 ہسپتالوں کو تجاوزات سے پاک کر دیا گیا ہے، جبکہ فائر ایکسٹنگوشرز کی دستیابی 233 سے بڑھ کر 238 ہسپتالوں تک پہنچ گئی ہے۔اسی طرح فرسٹ ایڈ باکسز اور فائر اسکیپ ماسکس کی دستیابی میں بھی بہتری آئی ہے، پہلے 149 ہسپتالوں میں یہ سہولیات دستیاب تھیں، جن کی تعداد اب بڑھ کر 216 ہو گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق دوسرے فائر سیفٹی آڈٹ میں تمام 7 حفاظتی پیمانوں پر بہتری سامنے آئی ہے، تاہم ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے مزید اقدامات اور حفاظتی انتظامات کو مؤثر بنانا اہم قرار دیا گیا ہے۔
پنجاب کے 239 سرکاری ہسپتالوں کا فائر سیفٹی آڈٹ مکمل
1
