پشاور: (سی بی این پاکستان)پشاور ہائیکورٹ نے سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی کی ہرجانہ کیس میں جرمانے کے خلاف اپیل خارج کردی۔کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کیس کی متعدد بار سماعت کے دوران نہ درخواست گزار اور نہ ہی ان کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے، جس کے باعث عدالت کے پاس درخواست خارج کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کا اس کیس میں مفاد یا دلچسپی باقی نہیں رہی، لہٰذا درخواست کی عدم پیروی پر اپیل خارج کی جاتی ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ کیس میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے، جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ درخواست گزار کے ڈرائیور اور سکیورٹی گارڈ کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق 14 سے 15 افراد نے گاڑی روکی اور صوبائی وزیر کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔واضح رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے شوکت یوسفزئی کے خلاف ہرجانے کا دعوی دائر کیا تھا۔پشاور کی سیشن کورٹ نے جولائی 2025میں دعویٰ منظور کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔بعد ازاں شوکت یوسفزئی نے ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔پشاور ہائیکورٹ نے کیس کی پیروی نہ کرنے پر ان کی اپیل خارج کردی۔
پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، شوکت یوسفزئی کی ہرجانہ کیس میں اپیل خارج کردی
16
