اسلام آباد: (سی بی این پاکستان) سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملازمین کی سنیارٹی تبدیل کرنے کے حوالے سے بڑا فیصلہ جاری کر دیا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ملازمین کی سنیارٹی تبدیل کرنے سے پہلے انہیں سماعت کا موقع دینا لازمی ہے، چاہے سابقہ سنیارٹی قواعد کے خلاف ہی کیوں نہ مقرر کی گئی ہو۔عدالت عظمیٰ نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ سنیارٹی ملازم کا قیمتی حق ہے، جس سے اس کے کیریئر اور ترقی کے امکانات وابستہ ہوتے ہیں، تاہم سنیارٹی خودکار ترقی کی ضمانت نہیں، بلکہ ترقی کا تعین متعلقہ قانون اور قواعد کے مطابق ہونا چاہیے۔عدالت نے قرار دیا کہ کسی ملازم کی سنیارٹی متاثر کرنے سے پہلے اس کا مؤقف سننا ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے سندھ پولیس کے اہلکاروں کی سنیارٹی فہرست سماعت کا موقع دیئے بغیر تبدیل کرنے کو آئین کے آرٹیکل 10 اے اور اصولِ انصاف کے منافی قرار دیا، فیصلے میں کہا گیا کہ سماعت کا موقع نہ دینے کا اہم نکتہ سابقہ بنچ کی توجہ سے اوجھل رہا تھا، جس کے باعث نظرثانی درخواستوں پر دوبارہ غور کیا گیا۔عدالت عظمیٰ نے نظرثانی درخواستیں منظور کرتے ہوئے 4 اپریل 2024 کا سابقہ حکم واپس لے لیا، سندھ پولیس اہلکاروں کی اپیلیں جزوی طور پر منظور کر لی گئیں، جبکہ متعلقہ درخواست گزاروں کی حد تک سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا۔عدالت نے محکمہ کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں سمیت دیگر متاثرہ افراد کو سماعت کا موقع فراہم کیا جائے۔تحریری فیصلے کے مطابق محکمہ تمام متاثرہ افراد کا مؤقف سننے کے بعد وجوہات پر مبنی فیصلہ جاری کرے، اگر اعتراضات درست ثابت ہوں اور سنیارٹی میں تبدیلی خلافِ قانون پائی جائے تو نئی سنیارٹی فہرست جاری کی جائے، سپریم کورٹ نے نئی فہرست فیصلے کی وصولی کے 2 ماہ کے اندر جاری کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ نئے فیصلے تک متعلقہ درخواست گزاروں کی حد تک 18 نومبر 2020 کی سنیارٹی فہرست برقرار رہے گی۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا یہ تحریری فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا، جبکہ جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی اس بنچ میں شامل تھے۔
ملازمین کی سنیارٹی تبدیل کرنے سے قبل سماعت کا موقع دینا لازم قرار
3
