نو شہرہ:(سی بی این پاکستان) ضلع نوشہرہ میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک، فائرنگ، قتل، ڈکیتی، اغوا اور چوری کی متعدد وارداتوں کے باعث شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھنے لگا۔نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک میں مسلح ملزمان نے فائرنگ کر کے میاں بیوی کو قتل کر دیا، جبکہ پولیس اہلکار ظہیر عالم کی شہادت، اہلکاروں کے اغوا اور کروڑوں روپے کی ڈکیتی سمیت دیگر واقعات نے امن و امان کی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔اطلاعات کے مطابق تھانہ اکوڑہ خٹک کی حدود میں مسلح ملزمان نے ایک موٹر کار پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار میاں بیوی جاں بحق ہو گئے، واقعے کی وجوہات اور ملزمان سے متعلق مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔نوشہرہ میں پولیس اہلکار کانسٹیبل ظہیر عالم کو بھی نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے شہید کر دیا، ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ شیدو کے قریب سوات سرامکس فیکٹری کے سامنے پیش آیا، جہاں اہلکار ڈیوٹی سے گھر واپس جا رہے تھے۔اطلاعات کے مطابق اکوڑہ خٹک کے علاقے میں چھیننے کی واردات کے دوران نامعلوم ڈاکوؤں نے ایک شہری کو قتل کر دیا، اس واقعے نے بھی علاقے میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ سے متعلق تشویش میں اضافہ کیا ہے۔گزشتہ دنوں تھانہ نظامپور کے ہیڈ محرر، ایک محرر اور ایک پولیس اہلکار کو مسلح اغواکاروں کی جانب سے اغوا کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی، بتایا گیا ہے کہ جرگہ مشران کی کوششوں کے نتیجے میں دو روز بعد دو مغوی اہلکاروں کو رہا کرا لیا گیا۔نوشہرہ میں سونے کی کان کنی سے وابستہ ایک ڈیلر کے گھر ڈکیتی کی واردات میں مسلح ملزمان مبینہ طور پر 2 کروڑ 79 لاکھ روپے نقدی اور 20 تولے سونا لوٹ کر فرار ہو گئے۔ضلع میں چوری کی ایک اور واردات کے دوران نامعلوم چور موبائل فون کی دکان سے 35 موبائل فون لے اڑے، اس کے علاوہ ایک گھر سے لاش ملنے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ضلع نوشہرہ میں پیش آنے والے ان واقعات کے بعد شہریوں میں جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے، شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا متعلقہ اداروں کی اہم ذمہ داری ہے۔
نوشہرہ میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک، قتل، اغوا اور ڈکیتی کی وارداتیں
4
