Home پاکستانریڈیو پاکستان حملہ کیس، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت 5 افراد نامزد

ریڈیو پاکستان حملہ کیس، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت 5 افراد نامزد

by adnan Shahid

پشاور:(سی بی این پاکستان)9 مئی 2023 کو پشاور میں ریڈیو پاکستان حملہ، توڑ پھوڑ اور آتشزدگی سے متعلق مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) اور نادرا رپورٹس کی روشنی میں مکمل تحقیقاتی رپورٹ انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کردی۔پولیس کی پیش کردہ رپورٹ میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران خان بنگش، پی ٹی آئی پشاور کے صدر عرفان سلیم اور عامر خان چمکنی کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مذکورہ پانچ افراد کے نام PFSA اور نادرا سے حاصل ہونے والی رپورٹس اور دیگر تفتیشی مواد کی روشنی میں شامل کیے گئے۔پولیس نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ ویڈیوز اور تصاویر فرانزک جانچ کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو بھیجی گئی تھیں، جبکہ افراد کی شناخت سے متعلق معاونت نادرا سے حاصل کی گئی۔PFSA نے فراہم کردہ تصاویر اور ویڈیوز میں نظر آنے والے افراد کے چہروں میں مطابقت کی نشاندہی کی تھی، تاہم فرانزک رپورٹ میں یہ حتمی طور پر نہیں کہا گیا کہ زیرِ تجزیہ ویڈیوز ریڈیو پاکستان پشاور کے واقعے ہی کی ہیں۔نادرا کی رپورٹ میں بھی متعلقہ افراد کے شناختی ریکارڈ اور پروفائل تصاویر کے ساتھ ممکنہ مطابقت کا ذکر کیا گیا ہے۔اس سے قبل انسداد دہشتگردی عدالت نے پولیس کی پیش کردہ رپورٹ کو نامکمل اور غیر حتمی قرار دیتے ہوئے تفتیشی افسر کو PFSA اور نادرا رپورٹس کی روشنی میں مکمل تفتیشی ریکارڈ اور حتمی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔عدالت نے خاص طور پر فرانزک رپورٹس کی بنیاد بننے والے شواہد اور مکمل تفتیشی عمل کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کا حکم دیا تھا۔پولیس کی موجودہ کارروائی کے بعد مقدمے میں نامزد افراد کی تعداد 80 ہوگئی ہے۔ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق اس سے قبل 75 ملزمان اس مقدمے میں ٹرائل کا سامنا کر رہے تھے۔نئے نامزد افراد کے خلاف مقدمے میں مزید قانونی کارروائی عدالت کے سامنے موجود تفتیشی ریکارڈ، شواہد اور قانون کے مطابق آگے بڑھے گی۔اس مقدمے میں فرانزک رپورٹس کے سامنے آنے کے بعد ویڈیوز کی نسبت اور شواہد کی حیثیت پر بھی اختلافی مؤقف سامنے آیا ہے، پی ٹی آئی سے وابستہ افراد نے بعض ویڈیوز کو ریڈیو پاکستان پشاور کے واقعے سے غیر متعلق قرار دیا ہے۔دوسری جانب مقدمے میں ریڈیو پاکستان کی جانب سے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ صرف PFSA اور نادرا رپورٹس عدالت میں پیش کرنا کافی نہیں بلکہ ان رپورٹس کی بنیاد بننے والی مکمل تفتیش اور اصل ریکارڈ بھی عدالت کے سامنے آنا چاہیے۔پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ میں کسی شخص کا نام شامل ہونا بذاتِ خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ مقدمے میں الزامات، شواہد اور متعلقہ فریقین کے مؤقف کا حتمی قانونی تعین عدالت کرے گی۔