پشاور: (سی بی این پاکستان) خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے انتظامی، مالیاتی، قانونی اور ترقیاتی امور میں مشاورت کے لیے گورنر فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11 رکنی خصوصی ایڈوائزری کونسل تشکیل دی گئی ہے۔خصوصی مشاورتی کونسل میں انتظامیہ، معیشت، قانون، سیاست، توانائی، صنعت، معدنیات، داخلہ، اطلاعات، تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں کے تجربہ کار افراد کو شامل کیا گیا ہے، جو اپنے متعلقہ شعبوں میں گورنر کو مشاورت فراہم کریں گے۔کونسل میں دو سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، ایک سابق سینیٹر، سابق ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا، سابق آئی جی جیل خانہ جات اور پاک فوج کی سابق سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر سمیت مختلف شعبوں کی اہم شخصیات شامل ہیں۔
ڈاکٹر سید عامر عبداللہ: تعلیم
ڈاکٹر سید عامر عبداللہ کونسل میں تعلیم کے شعبے سے متعلق امور دیکھیں گے، وہ سابق نگران وزیر صنعت و تجارت اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے کنسلٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
طارق محمود پاشا: مالیات اور محصولات
سابق چیئرمین ایف بی آر طارق محمود پاشا کو مالیات، ریونیو، ایکسائز اور ٹیکسیشن کے امور کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، وہ وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی برائے ریونیو اور سابق سیکرٹری اقتصادی امور بھی رہ چکے ہیں۔
عثمان سیف اللہ خان: توانائی اور ترقیاتی منصوبہ بندی
سابق سینیٹر عثمان سیف اللہ خان توانائی، بجلی، منصوبہ بندی اور ترقیاتی امور پر مشاورت فراہم کریں گے، وہ پاکستان اسٹیٹ آئل کے سابق بورڈ ممبر اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین رہ چکے ہیں۔
عامر جاوید: قانون اور پارلیمانی امور
سابق ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا عامر جاوید کونسل میں قانونی اور پارلیمانی امور دیکھیں گے۔ انہیں آئینی معاملات، حکومتی قانونی مشاورت اور اعلیٰ عدالتوں میں سرکاری مقدمات کی پیروی کا تجربہ حاصل ہے۔
ثمر ہارون بلور: اطلاعات و نشریات
عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کی سابق صوبائی سیکریٹری اطلاعات ثمر ہارون بلور اطلاعات و نشریات کے امور پر مشاورت کریں گی، وہ خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔
ڈاکٹر محمد ارشاد: صنعت و تجارت
سابق چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد ارشاد کو صنعت و تجارت کے شعبے کی ذمہ داری دی گئی ہے، وہ 2017 میں ایف بی آر کے چیئرمین رہ چکے ہیں اور ٹیکس انتظامیہ و ادارہ جاتی اصلاحات کا تجربہ رکھتے ہیں۔
مولانا محمد طیب قریشی: اوقاف و مذہبی امور
چیف خطیب خیبرپختونخوا مولانا محمد طیب قریشی کونسل میں اوقاف اور مذہبی امور کا محکمہ دیکھیں گے، وہ جامعہ اشرفیہ پشاور کے پرنسپل اور تمغ امتیاز یافتہ مذہبی اسکالر ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر: صحت
پاک فوج کی سابق سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان صحت کے شعبے سے متعلق امور پر مشاورت فراہم کریں گی، وہ پاک فوج کی پہلی خاتون تھری سٹار جنرل ہیں اور ہلال امتیاز ملٹری و تمغ امتیاز ملٹری حاصل کر چکی ہیں۔انہیں ہسپتالوں کے انتظام، طبی سہولیات اور صحت کے ہنگامی امور کا وسیع تجربہ حاصل ہے، کووڈ 19 کی وبا کے دوران بھی انہوں نے طبی سہولیات، حفاظتی اقدامات اور ویکسینیشن کے انتظامات میں اہم کردار ادا کیا۔
کفایت اللہ خان: داخلہ و قبائلی امور
سابق آئی جی جیل خانہ جات کفایت اللہ خان داخلہ اور قبائلی امور دیکھیں گے، وہ سابق چیئرمین فاٹا ٹربیونل اور خیبرپختونخوا کے مختلف ڈویژنز میں کمشنر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، انہیں صوبائی انتظامیہ، قبائلی معاملات اور داخلی نظم و نسق کا تجربہ حاصل ہے۔
ڈاکٹر سرفراز علی شاہ: معدنیات و کان کنی
معاشیات میں پی ایچ ڈی کے حامل ڈاکٹر سرفراز علی شاہ معدنیات اور کان کنی کے شعبے سے متعلق امور دیکھیں گے، وہ سابق نگران وزیراعلیٰ اعظم خان کے دور میں منصوبہ بندی و ترقی اور مواصلات و تعمیرات کے مشیر رہ چکے ہیں، جبکہ برطانیہ کے افورڈ بزنس کلب سے بطور کنسلٹنٹ وابستہ ہیں۔
آصف رفیق آفریدی: مواصلات، بلدیات اور ٹرانسپورٹ
سابق نگران صوبائی وزیر آصف رفیق آفریدی کو مواصلات و تعمیرات، بلدیات، ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹ کے امور سونپے گئے ہیں، وہ خیبرپختونخوا کی نگران کابینہ میں زراعت، لائیو اسٹاک، خوراک اور ماحولیات کے محکموں کے وزیر رہ چکے ہیں۔
خصوصی ایڈوائزری کونسل سے توقع ہے کہ وہ خیبرپختونخوا کے انتظامی، مالیاتی اور ترقیاتی معاملات میں گورنر کو تجاویز فراہم کرے گی، جبکہ مختلف محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے، ادارہ جاتی اصلاحات متعارف کرانے اور عوامی خدمات کی فراہمی مؤثر بنانے کے لیے بھی مشاورت کی جائے گی۔
خیبرپختونخوا کی 11 رکنی مشاورتی کونسل میں کون کون شامل؟
2
