تہران: (سی بی این پاکستان) ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی تہران میں ادا کی گئی نمازِ جنازہ کے بعد اب ان کی میت کا جلوس اگلے سفر کے لیے قُم روانہ کیا جا رہا ہے۔ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ سابق رہبرِاعلیٰ کے جسدِ خاکی کو آج تہران میں جنازے کے جلوس کے بعد قم لے جایا جائے گا، قم کے بعد پڑوسی ملک عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا بھی لے جایا جائے گا، جہاں لاکھوں لوگ ان کا آخری دیدار کر سکیں گے۔ان تمام مقامات سے گزارنے کے بعد نو جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں حضرت امام علی رضا کے مزار کے احاطے میں ان کی تدفین کی جائے گی۔اتوار کو تہران کے بڑے مذہبی مرکز امام خمینی مصلیٰ میں سابق سپریم لیڈر، ان کی صاحبزادی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری، بہو زہرا حداد عادل اور ان کی معصوم و کم سن نواسی زہرا محمدی کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔یہ جنازہ مشہور عالمِ دین آیت اللہ جعفر سبحانی نے تین مراحل میں پڑھایا۔اس بڑے اور تاریخی جنازے میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں سمیت ملک کی پوری سیاسی اور عسکری قیادت شریک ہوئی۔شہید رہنما کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای پہلی صف میں موجود تھے، تاہم ان کے چوتھے بھائی اور ایران کے موجودہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سکیورٹی کے سخت خدشات کی وجہ سے اپنے والد کے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے۔جنازے کے موقع پر تہران میں لاکھوں سوگواروں کا ایک سمندر دیکھا گیا، جہاں فضا غم اور غصے سے بھری ہوئی تھی، کم از کم ڈیڑھ کروڑ لوگ ان تقاریب میں شریک ہو رہے ہیں،حکامم کے مطابق جیسے ہی نمازِ جنازہ ختم ہوئی تو وہاں موجود انتظامیہ کے لوگوں اور منتظمین نے مائیک پر مجمع کو پکارتے ہوئے کہا کہ وہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے تیار ہو جائیں، جس پر لاکھوں لوگوں نے ایک زبان ہو کر انتقام، انتقام اور امریکہ مردہ باد کے شدید نعرے لگائے۔عراق میں موجود ایران کے ثقافتی سفیر غلام رضا اباذری نے آخری رسومات کے اگلے سفر کے بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی سات جولائی کی شام کو عراق کے مقدس شہر نجف پہنچایا جائے گا، جہاں آٹھ جولائی کو نجف اور کربلا میں بڑے جلوس نکالے جائیں گے۔ایران میں اس وقت سات دن کے سرکاری سوگ کا اعلان ہے اور دور دراز سے آنے والے کروڑوں مسافروں کے رکنے کے لیے پانچ ہزار سکول کھول دیے گئے ہیں، نو جولائی کو مشہد میں ہونے والی تدفین میں تقریباً دو کروڑ لوگوں کی شرکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا جلوس آج تہران سے قُم روانہ ہوگا۔
15
